مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 169 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 169

۱۶۹ رجوع نہ کرے۔اس ساری صورت کو واضح کرنے کے لئے اور پیشگوئی کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے مرزا صاحب نے متعدد حقائق سے پردہ اُٹھایا۔آپ نے ستمبر ۱۸۹۴ء سے ۱۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کے دن تک رونما ہونے والے واقعات کا تفصیلی ذکر کیا۔آپ لکھتے ہیں کہ -1 پیشگوئی میں فریق مخالف سے مراد اگر چہ اولا پادری عبداللہ آتھم ہی ہے لیکن میہ اُن سب پر حاوی تھی جو اس بحث سے متعلق تھے خواہ وہ حامی ، معاون یا سر براہ تھے۔اس لئے مقررہ مدت میں اُن میں سے کسی کی ہلاکت بھی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ایک حصہ سمجھی جانی چاہئے۔چنانچہ عیسائی پادری مشنری رائٹ ہاول (مباحثے میں عبد اللہ آتھم کا معاون۔ناقل ) جو امرتسر مشن کا روح رواں تھا عین جوان عمر میں نا گہانی طور پر مر گیا۔اس کی موت سے عیسائی پادریوں اور ڈاکٹر مارٹن کلارک کو انتہائی صدمہ پہنچا اور انہوں نے ماتمی لباس پہن لئے۔اس کی موت پر گرجے میں تقریر کرتے ہوئے ایک پادری نے یہاں تک کہ دیا کہ آج رات خدا کے غضب کی لاٹھی بے وقت ہم پر چلی اور اس کی خفیہ تلوار نے بے وقت ہم کو قتل کیا۔پھر پادری فورمین لاہور میں مرگئے اور جنڈیالہ کا ڈاکٹر یوحنا جو عیسائیوں کا ایک اعلیٰ رکن تھا اور جس کے ذمہ مباحثے کی طباعت کا کام تھا ۱۵ ماہ کی مقررہ میعاد کے اندر اس جہان سے رخصت ہوا۔یہ دُکھ ہاویہ سے کم نہ تھے۔1 -۲ مخالفین نے مرزا صاحب کی طرف سے پیشگوئی کے وقت اور ۱۵ ماہ کا عرصہ گذر جانے کے بعد عبد اللہ آتھم کے زندہ رہنے پر متضاد تبصرے کئے جو منطقی طور پر ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۴ ء - انوار الاسلام صفحه ۱۹۰۸