مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 170 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 170

صحیح طرز استدلال نہیں۔مثلاً مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے اخبار اشاعۃ السنہ میں ابتدا میں یہ تبصرہ کیا کہ پیشگوئی میں کسی کی موت کی معین خبر نہیں لیکن جب عبد اللہ آتھم نہ مرا تو یہ تبصرہ کیا کہ قطع نظر فریق مخالف کے تین سرکردہ لیڈروں کی وفات عبد اللہ آتھم نہیں مرا اس لئے پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔یہ سراسر غیر منصفانہ رویہ ہے۔اسی طرح ابتدا میں عیسائیوں نے پیشگوئی پر یہ تبصرہ کیا کہ عبداللہ آتھم کی موت کی پیشگوئی تو بے معنی ہے کیونکہ اُس کے متعلق تو ڈاکٹر بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ چھ ماہ میں مرجائے گا اور جب وہ چھ ماہ بلکہ ۱۵ ماہ میں بھی نہ مرا تو ضد کرنے لگے کہ پیشگوئی غلط نکلی یعنی انہوں نے پیشگوئی کے مطابق صرف آتھم کی وفات کو بھی وساوس کی نذر کرنے کا انتظام کر لیا اور پھر جب اُن کے اپنے اندازے غلط نکلے تو مرزا صاحب کی تحقیر شروع کر دی۔- خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ اگر کسی نافرمان اور گمراہ کے دل میں بھی خوف خدا پیدا ہو جائے تو عذاب الہی نازل نہیں ہوتا بلکہ مل جاتا ہے اور خدا کی طرف سے اصلاح کی مہلت ملتی ہے اور بانی سنتوں میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا یعنی پادری عبد اللہ آتھم نے پیشگوئی کے اندر درج شرط بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے“ کے الفاظ سے فائدہ اُٹھایا اور الہی عذاب وقتی طور پر اُس سے مل کر دوسرے وقت پر جا پڑا۔مرزا صاحب نے اس بات کے ثبوت میں کہ پادری عبد اللہ آتھم کے دل میں خوف الہی پیدا ہوا۔مندرجہ ذیل واضح شہادتیں مہیا کیں: (الف) مرزا صاحب نے مباحثے کے آخری دن پیشگوئی سنانے کے بعد جب پادری عبد اللہ آتھم کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر یہ نشان پورا ہو گیا تو کیا آپ