مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 168 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 168

۱۶۸ دوسری طرف عیسائیوں نے پیش بندی کے طور پر پیشگوئی کے دن سے ہی یہ کہنا شروع کر دیا کہ عبداللہ آتھم کے مرنے کی خبر تو ایک ڈاکٹر نے دے رکھی ہے کہ چھ ماہ میں مرجائے گا لے اس پر مستزاد یہ کہ پیشگوئی کی مدت یعنی ۱۵ ماہ کا عرصہ ۵ /جون ۱۸۹۳ء سے شروع ہو کر ۱۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کو ختم ہو گیا لیکن عیسائی فریق مباحثہ کا لیڈر پادری عبداللہ آتھم اس عرصہ میں زندہ رہا۔اسے عیسائیوں نے عیسائیت کی اسلام پر فتح قرار دیا۔چھ ستمبر ۱۸۹۴ء کو انہوں نے امرتسر میں ایک جلوس نکالا جس میں بعض مسلمان علماء جو مرزا صاحب کے مخالف گروہ سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی شامل ہوئے اور مرزا صاحب کی پیشگوئی کے غلط ہونے کا دعوی کیا۔- مرزا غلام احمد صاحب کا جوابی رد عمل : اگر چہ مسلمان علماء اور عیسائی پادری دونوں گروہ مرزا صاحب کی پیشگوئی کو براه راست سچے اور جھوٹے کے درمیان معیار کے طور پر تسلیم کرنے سے پہلے ہی انکار کر چکے تھے پھر بھی اُنہوں نے ۱۵/ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود پادری عبد اللہ آتھم کے زندہ رہنے کو اپنی فتح قرار دے کر جشن منانا اپنا حق جانا۔جہاں تک مسلمان علماء کے مطالبے کا تعلق ہے کہ پیشگوئی میں آتھم کی واضح موت کی خبر نہ تھی ایسی باتوں کے متعلق مرزا صاحب کہہ چکے تھے کہ پیشگوئیاں کوئی انسان کے اختیار میں نہیں اور خدا غضب میں دھیما ہے اس لئے بندے کے عجز وانکساری اختیار کرنے پر اُس سے عذاب کو ٹال دیتا ہے۔جس کا پیشگوئی میں اشارہ موجود ہے کہ ”بشر طیکہ حق کی طرف ل : مولانا جلال الدین شمس ۱۹۶۳ ء - پیش لفظ روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۶-۷