مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page xviii of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page xviii

ix مرزا صاحب کی اپنی کتب کے کئی کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں اور وہ لاکھوں کی تعداد میں طبع ہو کر دنیا کے کناروں تک پہنچ چکی ہیں۔ان کے زیروز بر کو تبدیل کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔مرزا صاحب کی اپنی زندگی میں مخالفین کے ساتھ کئی روحانی معر کے وقوع پذیر ہوئے۔مرزا صاحب کسی دنیاوی منصب کے حامل نہ تھے ، نہ طلب گار۔فطرتاً تنہائی پسند اور خاموش مزاج تھے۔اپنی کسی ذاتی لیاقت کے بھی دعویدار نہ تھے۔ان کا طرز استدلال عالمانہ اور منطقیانہ تھا۔اپنی ہر صلاحیت کو الہی تصرف سمجھتے تھے لیکن جیسا کہ آئندہ صفحات میں ہم نے بیان کیا ہے مرزا صاحب کے دشمنوں کا بھی یہ اقرار ہے کہ ان کے مخالف غیر منطقی ، عامیانہ انداز سے ان کی مخالفت کرتے تھے۔کمزور استدلال اور کم علمی کا شکار تھے اور مرزا صاحب کی مخالفت میں جتھہ بندی ، گالی گلوچ ،شور و غوغا اور فساد فی الارض کا سہارا لیتے تھے۔آج بھی اکثر مسلمان علماء نے اپنا وطیرہ نہیں بدلا۔لیکن یہ بات غور طلب ہے کہ کیا وقت کا دھارا بدل دیا گیا؟ کیا مرزا صاحب کے مخالفین نے ۱۰۰ سال کی جتھہ بندیوں کے بعد جماعت احمدیہ کو ملیا میٹ کر دیا ؟ کیا احمدیوں کے قدم ڈگمگائے ؟ ان کا احمدیت اور اسلام پر ایمان متزلزل ہوا۔تاریخ بتلاتی ہے کہ بڑے بڑے گدی نشین پیر، سجادہ نشین ، لاکھوں پیروکاروں کے علماء اور صاحبان اقتدار، جماعت احمدیہ کو تباہ کرنے کی حسرت لئے دنیا سے کوچ کر گئے لیکن جماعت احمد یہ آگے ہی بڑھتی گئی۔ترقی ہی کرتی چلی گئی اور وہ شخص جوا کیلا اٹھا تھا آج اس کے ساتھ ایک کروڑ مخلصین کی جماعت ہے۔یہ سب کیوں ہوا۔مرزا صاحب نے ۱۸۸۶ء میں لکھا تھا کہ میرے خدا نے مجھ سے کہا ہے کہ