مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 148 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 148

۱۴۸ صاحب نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا کہ مباحثے کے فریقین کے دلائل ایک برہموسما جی فاضل مثلاً مسٹر کیشپ چندرسین اور کسی انگریز عالم کے سامنے بحیثیت ثالث پیش کئے جائیں اور اس اخباری روداد میں اُن کی قطعی اور مدلل رائے بھی شامل کی جائے۔پنڈت صاحب نے اس تجویز کے جواب میں مکمل خاموشی اختیار کی یہاں تک کہ انہوں نے ۱۶ فروری ۱۸۸۷ء کو برہمو سماج تحریک سے قطع تعلق کر لیا۔برہمو سماج تحریک کی کیا اہمیت تھی اور مسلمان اس سے کہاں تک متاثر تھے اور مرزا غلام احمد صاحب نے اس اسلام دشمن تحریک کے مقابلے میں کیا کچھ کیا اس پر روشنی ڈالنے کے لئے ہم دو ایسے مقتدر حضرات کے تبصرے درج کر رہے ہیں جو بر ہمو سماج سے تعلق بھی رکھتے اور مرزا صاحب کے مخالف بھی تھے۔۱- ایک برہمو سماج کے مشہورا پدیشک ، دیوندر ناتھ سہائے لکھتے ہیں کہ (ہندی سے ترجمہ ) بر ہمو سماج کی تحریک ایک زبر دست طوفان کی طرح اُٹھی اور آناً فاناً نہ صرف ہندوستان بلکہ غیر ممالک میں بھی اس کی شاخیں قائم ہوگئیں۔بھارت میں نہ صرف ہندو اور سکھ ہی اس سے متاثر ہوئے بلکہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ نے بھی اس میں شمولیت اختیار کی۔روزانہ بیسیوں مسلمان بر ہمو سماج میں پردیش یعنی داخل ہوئے۔اس کی دیکھنا لیتے ہمیں معلوم ہے کہ بنگال کے بڑے بڑے مسلم خاندان برہمو سماج کے ل : دیو آتما اور اسکا الولک جیون مرت ۱۹۱۱ء- نول کشور گیس پرنٹنگ ورکس لاہور