مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 143
۱۴۳ رجوع سے باز آجاویں اور مالی امداد سے منہ پھیر لیں مگر دنیا جانتی ہے کہ اس اشتہار کے زمانے میں میری جماعت ساٹھ یا ستر آدمی سے زیادہ نہ تھی۔زیادہ سے زیادہ تمہیں یا چالیس روپیہ ماہوار آمدنی تھی مگر اس اشتہار کے بعد مالی امداد کا گویا ایک دریا رواں ہو گیا اور آج تک (فروری ۱۹۰۷ ء - ناقل ) کئی لاکھ لوگ بیعت میں داخل ہوئے اور اب تک ہر مہینہ میں پانچ سو کے قریب بیعت میں داخل ہو جاتا ہے۔۔۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس قدر ترقی ہوئی کہ جیسا ایک قطرہ سے دریا بن جاتا ہے اور یہ ترقی بالکل غیر معمولی اور معجزانہ تھی حالانکہ نہ صرف ملا وامل نے بلکہ ہر ایک دشمن نے اس ترقی کو روکنے کے لئے پور از ورلگا یا۔۔۔۔اور خدا کی غیرت اور قدرت نے ان کے منہ پر وہ طمانچے مارے کہ ہر میدان میں ان کو شکست ہوئی۔اخبار شبھ چنتک کے کارندوں پر عذاب الہی کا ورود : انہی دنوں اخبار شجھ چنتک کی دریدہ دینی اور مرزا صاحب کی اہانت اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ساتھ ہی سارے ہندوستان میں طاعون کی وبا تباہی مچار ہی تھی۔مرزا غلام احمد صاحب نے ایک پیشگوئی کر رکھی تھی کہ وہ خود اور جو کوئی بھی ان کے گھر میں ہوگا طاعون سے محفوظ رہے گا۔اس کو سن کر اچھر چند مینجر شجھ چنتک نے لکھا کہ 66 لو میں بھی دعوی کرتا ہوں کہ میں طاعون سے نہیں مروں گا۔“ سے : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ ء - قادیان کے آریہ اور ہم ( روحانی خزائن جلد ۲ صفحات ۴۲۴-۴۲۸) : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ء- حقیقۃ الوحی۔تتمہ صفحه ۵۹۳ حاشیہ