مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 142
۱۴۲ کیسی گمنامی میں زندگی بسر کرتا تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ یہ دونوں آریہ امرتسر میں میرے ساتھ جاتے تھے اور بجز ایک خدمتگار کے دوسرا آدمی نہیں ہوتا تھا اور بعض دفعہ صرف لالہ شرمیت ہی ساتھ جاتا تھا۔یہ لوگ حلفاً کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانہ میں میری گمنامی کی حالت کس درجہ تک تھی نہ قادیان میں میرے پاس کوئی آتا تھا اور نہ کسی شہر میں میرے جانے پر کوئی میری پرواہ کرتا تھا اور میں اُن کی نظر میں ایسا تھا جیسا کسی کا عدم اور وجود برا بر ہوتا ہے۔اب وہی قادیان ہے جس میں ہزاروں آدمی میرے پاس آتے ہیں اور وہی شہر امرتسر اور لاہور وغیرہ ہیں جو میرے وہاں جانے کی حالت میں صدہا آدمی پیشوائی کے لئے ریل پر پہنچتے ہیں بلکہ بعض وقت ہزار ہا لوگوں تک نوبت پہنچتی ہے۔چنانچہ ۱۹۰۳ء میں جب میں نے جہلم کی طرف سفر کیا تو سب کو معلوم ہے کہ قریباً گیارہ ہزار آدمی پیشوائی کے لئے آیا تھا۔ایسا ہی قادیان میں صدہا مہمانوں کی آمد کا ایک سلسلہ جواب جاری ہے اُس زمانہ میں اس کا نام ونشان نہ تھا لے " پھر جب چند سالوں کے بعد ان پیشگوئیوں کے آثار شروع ہونے لگے تو مخالفوں میں روکنے کے لئے جوش پیدا ہوا۔قادیان میں لالہ ملا وامل نے لالہ شرمیت کے مشورہ سے اشتہار دیا۔۔۔۔کہ تالوگ : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ ء- قادیان کے اریہ اور ہم (روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحات ۴۲۴-۴۲۸)