مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 18
18 باغ کی سی ہے جس کا مالی ہمہ وقت اس کا خیال رکھتا ہے جبکہ دوسرے مذاہب اب اس خشک باغ کی مانند ہیں جن میں سوکھے درخت تو ہیں مگر وہ پھول اور پھل سے محروم ہیں۔مالک نے اس باغ کی آبیاری چھوڑی دی ہے۔دوسرے مذاہب کے بگاڑ اور اسلام کی شاندار حفاظت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- ”دنیا کے مذاہب پر اگر نظر کی جاوے تو معلوم ہوگا کہ بجز اسلام ہر ایک مذہب اپنے اندر کوئی نہ کوئی غلطی رکھتا ہے اور یہ اس لئے نہیں کہ در حقیقت وہ تمام مذاہب ابتداء سے بگڑے ہوئے ہیں بلکہ اس لیے کہ اسلام کے ظہور کے بعد خدا نے ان مذاہب کی تائید چھوڑ دی اور وہ ایسے باغ کی طرح ہو گئے جس کا کوئی باغبان نہیں اور جس کی آبپاشی اور صفائی کیلئے کوئی انتظام نہیں۔اس لیے رفتہ رفتہ ان میں خرابیاں پیدا ہو گئیں۔تمام پھل دار درخت خشک ہو گئے اور ان کی جگہ کانٹے اور خراب بوٹیاں پھیل گئیں اور روحانیت جو مذہب کی جڑ ہے وہ بالکل جاتی رہی اور صرف خشک الفاظ ہاتھ میں رہ گئے۔مگر خدا نے اسلام کے ساتھ ایسا نہ کیا اور چونکہ وہ چاہتا تھا کہ یہ باغ ہمیشہ سرسبز رہے اس لیے اس نے ہر ایک صدی پر اس باغ کی نئے سرے سے آبپاشی کی اور اس کو خشک ہونے سے بچایا۔ہر صدی پر جب بھی کوئی بندہ خدا اصلاح کیلئے قائم ہوا جاہل لوگ اس کا مقابلہ کرتے رہے لیکن خدا نے اپنی سنت کو نہ چھوڑا مگر دوسرے دینوں کو ہمارے نبی ﷺ کے بعد یہ تجدید کبھی نصیب نہ ہوئی اس لیے وہ سب مذاہب مرگئے ان میں روحانیت باقی نہ رہی۔اور بہت سی غلطیاں ان میں ایسی جم گئیں کہ جیسے بہت مستعمل کپڑے پر جو بھی دھویا نہ جائے میل جم جاتی ہے اور ایسے انسانوں نے جن کو روحانیت سے کچھ بہرہ نہ تھا اور جن کے نفس امارہ سفلی زندگی کی آلائشوں سے پاک نہ تھے اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق ان مذاہب کے اندر بیجا دخل دے کر ایسی صورت ان کی بگاڑ دی کہ اب وہ کچھ اور ہی چیز ہیں۔۳۳ے اسلام میں اس طرح سلسلہ مجددین جاری کرنے کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟ اور اسلام کی حفاظت کیلئے ایسا کرنا کیوں ضروری تھا ؟ تا کہ باقی ادیان پر اس کی فوقیت ثابت ہو۔ان باتوں کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: - السر کے لفظ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لفظ مجد دوں اور مرسلوں کے سلسلہ جاریہ کی طرف