مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 17
17 اس میں ابو داؤد کی حدیث کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ انسب یہ ہے کہ حدیث کو عام مفہوم نہ کیا جائے۔پس اس سے لازم آتا ہے کہ جو صدی کے سر پر مبعوث ہو وہ فرد نہ ہو بلکہ ہوسکتا ہے ایک یا ایک سے زائد ہوں کیونکہ گواُمتِ فقہاء سے جو فائدہ پہنچتا ہے وہ بھی عام ہے لیکن اسے جو فائدہ ان کے اولی الامر اور محدثین اور قُر اء اور واعظوں اور زہاد کے مختلف درجات سے پہنچتا ہے وہ بھی بہت زیادہ ہے۔کیونکہ ہر فن اور علم کا ایک فائدہ ہے جو اُسے حاصل نہیں ہوتا۔دراصل حفاظت دین میں قانونِ سیاست کی حفاظت اور ادب کا پھیلانا بہت اہم ہے کیونکہ اسی سے انسان کے خوف کی حفاظت ہوتی ہے، قانونِ شرعی قائم ہوتا ہے اور یہ کام حکام کا ہے۔پس جو قانونِ شریعت نافذ کرنے والے حکام ہیں شیخ محمد طاہر گجراتی کے نزدیک وہ اسی طرح مجدد ہیں۔ایک فقیہ مجدد ہوتا ہے یا جیسے صوفی بزرگ اور دعا گولوگ مجدد ہیں۔پس زیادہ بہتر اور مناسب یہی ہے کہ مانا جائے کہ اس حدیث میں ہر صدی کے سر پر ایسے بڑے بزرگوں کی ایک جماعت موجود ہونے کی طرف اشارہ ہے لوگوں کیلئے۔دین کو تازہ کریں گے اور تمام دنیا میں اس کی حفاظت کریں گے۔علماء کے ایک گروہ نے یہ لکھا ہے کہ یہ ذمہ داری تو ساری اُمت کی تھی یعنی امت مسلمہ کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دین اسلام کی تجدید کرے۔جس طرح ہم آپ کو کہتے ہیں کہ آپ دین سیکھیں اور اس کو ساری دنیا میں پھیلائیں۔لیکن چونکہ سارے نہیں کرتے اس لئے ہر صدی میں ایک جماعت پیدا ہو جاتی ہے جو فرض کفایہ کے طور پر یہ کام کرتی ہے۔کیونکہ وہ جماعت کام کرتی ہے اس لئے کہ جو نہیں کام کرتا اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اگر یہ بھی کام نہ کریں تو ان کے گناہ بھی معاف نہیں ہوں گے۔پس حدیث شریف میں کسی ایک کے آنے کا ذکر نہیں نہ لغوی معنوں کے لحاظ سے اور نہ جو پہلے علماء تھے جن کے چند حوالے میں نے پڑھے ہیں۔ان کے اقوال کے مطابق اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو اس کی تفسیر کی ہے اس کے مطابق۔۳۲ے سلسلہ مجددین - آج اسلام کی امتیازی خصوصیت خدا تعالیٰ نے اسلام اور قرآن کی حفاظت کا ذمہ قیامت تک لیا ہے۔آج اس رنگ میں تجدید واحیاء صرف اسلام کی خوبی ہے اور باقی مذاہب اس سے یکسر محروم ہیں۔اسلام کی مثال اس سرسبز