مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 19
19 اشارہ کرتا ہے جو قیامت تک جاری ہے۔اب اس سلسلہ میں آنے والے مجددوں کے خوارق ، ان کی کامیابیوں، ان کی تاثیروں وغیرہ کو گن بھی نہیں سکتے۔۔۔غرض ہر صدی کے سر پر مجدد کا آنا صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ مردوں سے استمد ادخدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق نہیں اگر مُردوں سے مدد کی ضرورت ہوتی تو پھر زندوں کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ہزاروں ہزار اولیاء اللہ پیدا ہوئے ہیں اس کا کیا مطلب تھا۔مجددین کا سلسلہ کیوں جاری کیا جا تا اگر اسلام مُردوں کے حوالے کیا جاتا تو یقیناً سمجھو کہ اس کا نام ونشان مٹ گیا ہوتا۔یہودیوں کا مذہب مُردوں کے حوالے کیا گیا نتیجہ کیا ہوا ؟ عیسائیوں نے مُردہ پرستی کی بتلاؤ کیا پایا۔مُردوں کو پوجتے پوجتے خود مُردہ ہو گئے۔نہ مذہب میں زندگی کی روح رہی نہ ماننے والوں میں زندگی کے آثار باقی رہے۔اوّل سے لے کر آخر تک مردوں کا ہی مجمع ہو گیا۔۳۴ چنانچہ مختلف مذاہب کے علماء اور محققین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ واقعتاً مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ ان مذاہب میں بگاڑ پیدا ہوتارہا ہے۔چنانچہ بدھ مت کے بگاڑ کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو لکھتے ہیں :- اس وسیع بدھ دنیا میں اور اس کی حکمرانی کی اس طویل مدت میں کوئی ایسا مصلح سامنے نہ آیا جو حقیقی بدھ مت کی طرف دعوت دے اور اس جدید اور منحرف مذہب کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کرے اور اس کا دور شباب اور اس کی گمشدہ سادگی اور صفائی پھر سے واپس لے آئے۔۳۵ یہی حال ہندو مذہب کا ہوا اور یہی حال عیسائیت کا ہوا۔عیسائیت کے بگاڑ کا تذکرہ کرتے ہوئے انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے :- اگر ہم اس کے اسباب تلاش کریں کہ سولہویں صدی سے قبل اصلاح مذہب ریفارمیشن ) کی کوششوں میں جزوی کامیابی بھی کیوں نہ ہوئی تو بلا کسی دشواری کے کہہ سکتے ہیں کہ سب سے بڑا سبب قرونِ وسطیٰ کی ماضی کی مثالوں کی غلامی تھی۔ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک مذہب میں زندگی کی روح پھونکنے والے افراد موجود نہ ہوں