مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 16 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 16

16 والمؤنث کہ اس سے واحد بھی مراد لی جاتی ہے اور جمع بھی مراد لی جاتی ہے۔مذکر بھی مراد لیا جاتا ہے اور مؤنث بھی مراد لی جاتی ہے۔ان معنوں کے لحاظ سے حدیث کا یہ مطلب ہوگا کہ ہر صدی کے سر پر ایسے مرد ہوں گے نیز خدا تعالی کی درگاہ میں پہنچی ہوئی ایسی مستورات بھی ہوں گی۔یعنی مرد بھی خدمت دین میں لگے ہوئے ہوں گے اور مستورات بھی۔جب ہم پہلے بزرگ محققین اور اولیاء اللہ کے اقوال کو دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ انہوں نے بھی من کے وہی معنے کئے ہیں جو میں اوپر بتا چکا ہوں۔من مجدد کے متعلق امام المناوی فرماتے ہیں کہ اس میں من سے مراد ایک یا ایک سے زیادہ آدمی ہو سکتے ہیں۔علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ہر ایک قوم کا دعویٰ کہ اس حدیث سے اس کا امام ہی مراد ہے لیکن ظاہر بات یہی ہے کہ اس کو ہر ایک گروہ کے علماء پر چسپاں کیا جانا چاہئے۔اور علمی کہتے ہیں کہ تجدید سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی جن باتوں پر عمل مٹ گیا ہے ان کو وہ از سرنو زندہ کرے اور وہ کہتے ہیں کہ خوب یا درکھو مجدد دعوئی کوئی نہیں کرتا بلکہ اس کا علم لوگوں کو بعض قرائن اور حالات اور ان خدمات سے ہوتا ہے جو وہ اسلام کی کرتا ہے۔شیخ محمد طاہر گجراتی (۱۵۰۹۔۱۵۷۸) جو سولہویں صدی میں ایک بہت بڑے عالم گزرے ہیں انہوں نے اس حدیث پر یہ نوٹ دیا ہے کہ اس کے مفہوم کے متعلق اتفاق ہی نہیں علماء نے اختلاف بھی کیا ہے۔یعنی اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ کون مجدد تھا کس صدی کا اور کون نہیں تھا اور ان میں سے ہر ایک فرقہ نے اسے اپنے امام پر چسپاں کیا ہے۔مگر بہتر یہ ہے کہ اسے عام مفہوم پرمحمول کیا جائے اور فقہاء سے اسے مخصوص نہ کیا جائے کیونکہ یہ یقیناً مسلمانوں کو اولوالامریعنی جو بادشاہ ہیں اور جو محدث ہیں اور جو فزاء ہیں اور جو واعظ ہیں اور جو زاہد ہیں ان سب سے بہت فائدہ حاصل ہوتا ہے۔اس لئے وہ سارے مجدد ہیں اور حدیث سے مراد یہ ہے کہ ہر صدی جب گزرے گی تو یہ لوگ زندہ ہوں گے۔یہ نہیں کہ کوئی صدی ان کا نام و نشان مٹا ڈالے اور حدیث میں اس کے متعلق اشارہ ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ جو لوگ ہر صدی کے سر پر تجدید کا کام کریں گے وہ بڑے بڑے بزرگوں کی ایک جماعت ہوگی۔پہلی صدی میں حضرت عمر بن عبد العزیز اور فقہاء اور محدثین اور ان دوسرے طبقات میں سے بھی بے شمار بزرگ تجدید دین کرنے والے ہیں۔و مالا یحصی یعنی جن کو گنا نہیں جاسکتا۔اتنے مجد دصدی کے سر پر عمر کے ساتھ انہوں نے جمع کر دیئے ہیں۔اسی طرح انہوں نے جتنے ان کا یا جو صدی کے سر پر ایک سے زیادہ علماء ان کا ذکر کر دیا ہے۔ایک اور کتاب درجات مرقاة الصعود الى سنن ابی داؤد