مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 314 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 314

314 (۳) قرآن کریم کا کوئی لفظ بے مقصد نہیں ہوتا اور کوئی لفظ زائد نہیں ہوتا۔ہر لفظ کسی خاص مفہوم میں اور مطلب ادا کرنے کیلئے آتا ہے۔پس کسی لفظ کو یونہی نہ چھوڑو۔(۴) جس طرح قرآن کریم کا کوئی لفظ بے معنی نہیں ہوتا۔اسی طرح وہ جس سیاق و سباق میں آتا ہے وہیں اس کا آنا ضروری ہوتا ہے۔پس معنے کرتے وقت پہلے اور پچھلے مضمون کے ساتھ تعلق سمجھنے کی ضرور کوشش کرنی چاہیے۔اگر سیاق و سباق کا لحاظ نہ رکھا جائے تو معنے کرنے میں غلطی ہوتی ہے۔(۵) قرآن کریم اپنے ہر دعویٰ کی دلیل خود بیان کرتا ہے۔اس کے متعلق مفصل پہلے بیان کر آیا ہوں۔آپ نے فرمایا جہان قرآن کریم میں کوئی دعوی ہو وہاں اس کی دلیل بھی تلاش کرو ضر ورمل جائے گی۔(۲) قرآن اپنی تفسیر آپ کرتا ہے۔جہاں کہیں کوئی بات نامکمل نظر آئے اس کے متعلق دوسرا ٹکڑا دوسری جگہ تلاش کرو جو ضر ورمل جائے گا اور اس طرح وہ بات مکمل ہو جائے گی۔(2) قرآن کریم میں تکرار نہیں۔اس کے متعلق میں تفصیلاً پہلے بیان کر آیا ہوں۔(۸) قرآن کریم میں محض قصے نہیں ہیں۔بلکہ ہر گزشتہ واقعہ پیشگوئی کے طور پر بیان ہوا ہے۔یہ بھی پہلے بیان کر چکا ہوں۔(۹) قرآن کریم کا کوئی حصہ منسوخ نہیں۔پہلے لوگوں کو جو آیت سمجھ نہ آتی تھی اس کے متعلق کہہ دیتے تھے کہ وہ منسوخ ہے اور اس طرح انہوں نے قرآن کریم کا بہت بڑا حصہ منسوخ قرار دے دیا۔ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے کہتے ہیں کسی شخص کو خیال تھا کہ وہ بڑا بہادر ہے۔اس زمانہ میں بہادر لوگ اپنا کوئی نشان قرار دے کر اپنے جسم پر گدواتے تھے۔اس نے اپنا نشان شیر قرار دیا اور اسے باز و پر گدوانا چاہا۔وہ گودنے والے کے پاس گیا اور اسے کہا کہ میرے باز و پر شیر کا نشان گوددو۔جب وہ گود نے لگا اور سوئی چھوٹی تو اسے درد ہوئی اور اس نے پوچھا کیا چیز گودنے لگے ہو۔گودنے والے نے کہا شیر کا کان بنانے لگا ہوں۔اس نے کہا اگر کان نہ ہو تو کیا اس کے بغیر شیر شیر نہیں رہتا؟ گودنے والے نے کہا کہ نہیں۔پھر بھی شیر ہی رہتا ہے۔اس نے کہا اچھا تب کان کو چھوڑ دو۔اسے بھی پہلے بہانہ