مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 313
313 خود آیت قرآنیہ کو نہیں سمجھتے۔ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ زمین و آسمان کتنے سالوں میں بنے مگر یہ جانتے ہیں کہ چھ دنوں میں نہیں بنے۔کیونکہ یوم تو سورج سے بنتے ہیں۔مگر جب سورج ہی نہ تھا تو یہ دن کہاں سے آگئے؟ یوم کے معنے ایک اندازہ وقت کے ہیں۔قرآن کریم میں یوم ایک ہزار سال کا بھی اور پچاس ہزار سال کا بھی آیا ہے۔پس اس آیت میں چھ لمبے زمانوں میں زمین و آسمان کی پیدائش مراد ہے۔(11) گیارہویں لوگ قرآن کریم کی تفسیر کرنے میں غلطی کیا کرتے تھے۔آپ نے ایسے اصول پر تفسیر قرآن کریم کی بناء رکھی کہ غلطی کا امکان بہت ہی کم ہو گیا ہے۔ان اصول کے ذریعہ سے ہی خدا تعالیٰ نے آپ کے اتباع پر قرآن کریم کے ایسے معارف کھولے ہیں جو اور لوگوں پر نہیں کھلے۔چنانچہ میں نے بھی کئی مرتبہ اعلان کیا ہے کہ قرآن کریم کا کوئی مقام کسی بچہ سے کھلوایا جائے یا قرعہ ڈال لیا جائے پھر اس جگہ کے معارف میں بھی لکھوں گا، دوسری کسی جماعت کا نمائندہ بھی لکھے۔پھر معلوم ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کس کے ذریعہ قرآن کریم کے معارف ظاہر کراتا ہے مگر کسی نے یہ بات منظور نہ کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو اصول تفسیر بیان کئے ہیں وہ یہ ہیں :- (1) آپ نے بتایا کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا راز ہے اور راز ان پر کھولے جاتے ہیں جو خاص تعلق رکھتے ہیں۔اس لیے قرآن کریم سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم کی تفسیریں جن لوگوں نے لکھی ہیں وہ نہ صوفی تھے نہ ولی بلکہ عام مولوی تھے، جو عربی جاننے والے تھے۔ہاں انہوں نے بعض آیتوں کی تفسیر میں لکھی ہیں اور نہایت لطیف تفسیر میں لکھی ہیں۔جیسا کہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی کی کتب میں آیات قرآنیہ کی تفسیر آتی ہے۔تو ایسی لطیف ہوتی ہے کہ دل اس کی صداقت کا قائل ہو جاتا ہے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا ہے کہ قرآن کریم سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ تعلق باللہ حاصل ہو۔(۲) دوسرا اصل آپ نے بتایا ہے کہ قرآن کریم کا ہر ایک لفظ ترتیب سے رکھا گیا ہے۔اس نکتہ سے قرآن کریم کی تفسیر آسان بھی ہوگئی ہے اور اس کے لطیف معارف بھی کھلتے ہیں۔پس چاہیے کہ جب کوئی قرآن کریم پر غور کرے تو اس بات کو مد نظر رکھے کہ خدا تعالیٰ نے ایک لفظ کو پہلے کیوں رکھا ہے اور دوسرے کو بعد میں کیوں۔جب وہ اس پر غور کرے گا تو اسے حکمت سمجھ میں آجائے گی۔