مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 315
315 سے چھڑا دیا۔اسی طرح جو حصہ وہ گود نے لگتا وہی چھڑا دیتا۔آخر گودنے والے نے کہا کہ اب تم گھر جاؤ۔ایک ایک کر کے سب حصے ہی ختم ہو گئے ہیں۔یہی حال قرآن کریم میں ناسخ و منسوخ مانے والوں کا تھا۔گیارہ سو آیات انہوں نے منسوخ قرار دے دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ قرآن کریم کا ایک لفظ بھی منسوخ نہیں ہے اور جن آیات کو منسوخ کہا جاتا تھا ان کے نہایت لطیف معافی اور مطالب بیان فرمائے۔(۱۰) ایک گر آپ نے قرآن کریم کے متعلق یہ بیان فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کی سنت آپس میں مخالف نہیں ہو سکتے۔آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی سائنس مخالف نہیں ہوتی۔کیونکہ سائنس بعض اوقات خود غلط بات پیش کرتی ہے اور اس کی غلطی ثابت ہو جاتی ہے۔بلکہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی سنت اس کے کلام کے خلاف نہیں ہوتی۔ہاں یہ ممکن ہے کہ جس طرح کلام الہی کے سمجھنے میں لوگ غلطی کر جاتے ہیں اسی طرح فعل الہی کے سمجھنے میں بھی غلطی کر جائیں۔(11) آپ نے یہ بھی بتایا کہ عربی زبان کے الفاظ مترادف نہیں ہوتے۔بلکہ اس کے حروف بھی اپنے اندر مطالب رکھتے ہیں۔پس ہمیشہ معانی پر غور کرتے ہوئے اس فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے جو اس قسم کے دوسرے الفاظ میں پائے جاتے ہیں تا کہ وہ زائد بات ذہن سے غائب نہ ہو جائے جو ایک خاص لفظ کے چنے میں اللہ تعالیٰ نے مد نظر رکھی تھی۔(۱۲) قرآن کریم کی سورتیں بمنزلہ اعضاء انسانی کے ہیں۔جو ایک دوسرے سے مل کر اور ایک دوسرے کے مقابل پر اپنے کمال ظاہر کرتی ہیں۔آپ نے فرمایا: کسی بات کو سمجھنا ہو تو سارے قرآن پر نظر ڈالنی چاہیے۔ایک ایک حصہ کو الگ الگ نہیں لینا چاہیے۔(13) تیرھویں غلطی لوگوں کو یہ لگی ہوئی تھی کہ وہ سمجھتے تھے قرآن کریم احادیث کے تابع ہے۔حتی کہ یہاں تک کہتے تھے کہ احادیث قرآن کی آیات منسوخ کر سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس غلطی کو اس طرح دور کیا کہ آپ نے فرمایا قرآن کریم حاکم ہے اور احادیث اس کے تابع ہیں۔ہم صرف وہی حدیث مانیں گے جو قرآن کریم کے مطابق ہوں گی ، ورنہ رد کر دیں گے۔اسی طرح وہ حدیث جو قانون قدرت کے مطابق ہو وہ قابل تسلیم ہوگی۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کا فعل مخالف نہیں ہو سکتے۔