مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 312 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 312

312 اسی طرح آپ نے بتایا کہ دیکھو قرآن کریم کے زمانہ کے لوگوں کا خیال تھا کہ آسمان ایک ٹھوس چیز ہے اور ستارے اس میں جڑے ہوئے ہیں۔مگر یہ تحقیق واقعہ کے خلاف تھی۔قرآن کریم نے اس زمانہ میں ہی اس کو رڈ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ کل فی فلک یسبحون (یس : 41)۔سیارے ایک آسمان میں جو ٹھوس نہیں ہیں بلکہ ایک لطیف مادہ ہے جسے سیال سے نسبت دی جاسکتی ہے اور سیارے اس میں اس طرح گردش کرتے ہیں جیسے کہ تیراک پانی میں تیرتا ہے۔موجودہ تحقیق میں ایتھر کا بیان بالکل اس بیان کے مشابہ ہے۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ خلق منها زوجها (النساء: 60 ) کے یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ آدم کی پہلی سے خدا تعالیٰ نے حوا کو پیدا کیا اور اس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔حالانکہ یہ معنی ہی غلط ہیں۔قرآن کریم میں یہ نہیں کہا گیا کہ حوا آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی بلکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حوا آدم ہی کی جنس سے پیدا کی گئی۔یعنی جن طاقتوں اور جذبات کو لے کر مرد پیدا ہوا، انہی طاقتوں اور جذبات کو لے کر عورت پیدا ہوئی۔کیونکہ اگر مرد اور عورت کے جذبات ایک نہ ہوتے تو ان میں حقیقی انس پیدا نہ ہوسکتا تھا۔بلکہ اگر مرد میں شہوت رکھی جاتی اور عورت میں نہ ہوتی تو کبھی ان میں اتحاد پیدا نہ ہوتا اور ایک دوسرے سے سر پھٹول ہوتا رہتا۔پس جیسے جذبات مرد میں رکھے گئے ہیں ایسے ہی عورت میں بھی رکھے گئے ہیں تا کہ وہ آپس میں محبت سے رہ سکیں۔اب دیکھو یہ مسئلہ مردو عورت میں کیسا صلح اور محبت کر نیوالا ہے۔جب کوئی مرد عورت سے بلا وجہ ناراض ہو تو اسے کہیں گے جیسے تمہارے جذبات ہیں ایسے ہی عورت کے جذبات بھی ہیں۔جس طرح تم نہیں چاہتے کہ تمہارے جذبات کو ٹھیس لگے، اسی طرح وہ بھی نہیں چاہتی ہے کہ اس کے جذبات کو پامال نہ کیا جائے۔پس تمہیں بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے۔اسی طرح آپ نے فرمایا بعض لوگ کہتے ہیں کہ الذی خلق السموت والارض وما بينهما في ستة ايام ثم استوى على العرش الرحمن فسئل به خبيرا (الفرقان: 60) سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کئے گئے اور پھر خدا عرش پر قائم ہو گیا۔مگر یہ غلط ہے کیونکہ زمین و آسمان لاکھوں سال میں پیدا ہوئے ہیں۔یہ جیالوجی سے ثابت ہے لیکن حق یہ ہے کہ لوگ