مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 311
311 کتاب ہے جو نیچر یا خدا کے فعل کو زور کے ساتھ پیش کرتی ہے اور اس کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے اور ظاہری سلسلہ یعنی نیچر کو باطنی سلسلہ کلام الہی کے مماثل قرار دیتی ہے۔پس یہ کہنا غلط ہے کہ قرآن کریم علوم طبیعیہ کے خلاف باتیں کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کا فعل ایک دوسرے کے کبھی خلاف نہیں ہو سکتے۔جو امور قرآن کریم میں خلاف قانون قدرت قرار دیئے جاتے ہیں آپ نے ان کے متعلق فرمایا وہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہیں۔یا تو یہ کہ جس بات کو لوگوں نے قانون قدرت سمجھ لیا ہے وہ قانون قدرت نہیں۔یا پھر قرآن کریم کے جو معنے سمجھے گئے ہیں وہ درست نہیں۔چنانچہ آپ نے یہی مثال دی ہے کہ والسماء ذات الرجع والارض ذات الصدع (الطارق: 13-12) کے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ آسمان چکر کھا تا ہے اور زمین پھٹتی ہے اور اس پر طبیعی لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ آسمان کوئی مادی شے ہی نہیں، پھر وہ کیونکر چکر لگاتا ہے اور اگر مادی وجود ہو بھی تو بھی زمین چکر کھاتی ہے نہ کہ آسمان۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں۔سماء کے معنی بادل کے بھی ہیں اور رجع کے معنے بار بار آنے کے۔پس اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ آسمان چکر کھاتا ہے بلکہ یہ ہیں ہم شہادت کے طور پر بادلوں کو پیش کرتے ہیں۔جو بار یک خشک زمین کو سیراب کرنے کیلئے آتے ہیں۔پھر زمین کو پیش کرتے ہیں جو بارش ہونے پر پھٹتی ہے یعنی اس سے کھیتی نکلتی ہے۔شہادت کے طور پر ان چیزوں کو پیش کر کے بتایا گیا ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے بادلوں کا سلسلہ پیدا کیا ہے کہ وہ بار بار آتے ہیں اور زمین کی شادابی کا موجب ہوتے ہیں اور ان کے بغیر سرسبزی اور شادابی ناممکن ہے۔اسی طرح روحانی سلسلہ کا حال ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے بادل نہیں بھیجتا اور اپنے کلام کا پانی نہیں برسا تازمین کی پھوٹنے کی قابلیت ظاہر نہیں ہوتی۔لیکن جب آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے تب جا کر انسانی ذہن بھی اپنی قابلیت کو ظاہر کرتا ہے اور آسمانی کلام کی مدد سے بار یک در بار یک مطالب روحانیہ کو پیدا کرنے لگتا ہے۔چنانچہ ان آیات کا سیاق بھی انہی معنوں پر دلالت کرتا ہے۔کیونکہ آگے فرمایا ہے کہ انہ لقول فصل وما هو بالهزل (الطارق : 15-14) یعنی پہلی بات سے یہ امر ثابت ہے کہ قرآن کریم کوئی لغو بات نہیں بلکہ حقیقت کو ثابت کرنے والا کلام ہے۔کیونکہ اس زمانہ میں بھی زمین خشک ہورہی تھی اور دینی علوم سے لوگ بہرہ ور تھے۔پس ضرورت تھی کہ خدا کی رحمت کا بادل کلام الہی کی صورت میں برستا اور لوگوں کی روحانی خشکی کو دور کرتا۔