مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 279 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 279

مثیل مسیح 279 میں ان تمام امور پر ایمان رکھتا ہوں جو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں درج ہیں اور مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔جس طرح محد ثیت نبوت سے مشابہ ہے ایسا ہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے اشد درجہ کی مشابہت رکھتی ہے۔غرض میں ایک مسلمان ہوں۔ايها المسلمون انا منكم و امامکم منکم بامر اللہ تعالیٰ۔خلاصہ کلام یہ کہ میں محدث اللہ ہوں اور مامور من اللہ ہوں۔اور با ایں ہمہ مسلمانوں میں سے ایک مسلمان ہوں۔جو صدی چہار دہم کیلئے مسیح ابن مریم کی خصلت اور رنگ میں مجدد دین ہو کر رب السموات والارض کی طرف سے آیا ہوں۔میں مفتری نہیں ہوں وقد خاب من افتری خدا تعالیٰ نے دنیا پر نظر کی اور اس کو ظلمت میں پایا اور مصلحت عباد کیلئے اپنے عاجز بندہ کو خاص کر دیا۔کیا تمہیں اس سے کچھ تعجب ہے کہ وعدہ کے موافق صدی کے سر پر ایک مجدد بھیجا گیا اور جس نبی کے رنگ میں خدا نے چاہا خدا تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا۔کیا ضرور نہ تھا کہ مخبر صادق علی کی پیشگوئی پوری ہوتی۔بھائیو! میں مصلح ہوں، بدعتی نہیں اور معاذ اللہ میں کسی بدعت کو پھیلانے کیلئے نہیں آیا۔حق کے اظہار کیلئے آیا ہوں اور ہر ایک بات جس کا اثر اور نشان قرآن اور حدیث میں نہ پایا جائے اس کے برخلاف ہو وہ میرے نزدیک الحاد اور بے ایمانی ہے۔مگر ایسے لوگ تھوڑے ہیں جو کلام الہی کی تہہ تک پہنچتے اور ربانی پیشگوئیوں کے باریک بھیدوں کو سمجھتے ہیں۔میں نے دین میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں کی۔بھائیو! میرا وہی دین ہے جو تمہارا دین ہے اور وہی رسول کریم میر امقتدا ہے جو تمہارا مقتدا ہے اور وہی قرآن شریف میر ہادی ہے اور میرا پیارا اور میری دستاویز ہے جس کا ماننا تم پر بھی فرض ہے۔ہاں یہ بیچ اور بالکل سچ ہے کہ میں حضرت مسیح ابن مریم کو فوت شدہ اور داخل موتی یقین رکھتا ہوں اور جو آنے والے مسیح کے بارے میں پیشگوئی ہے وہ اپنے حق میں یقینی اور قطعی طور پر اعتقا در کھتا ہوں۔لیکن اے بھائیو! یہ اعتقاد میں اپنی طرف سے اور اپنے خیال سے نہیں رکھتا بلکہ خداوند کریم جل شانہ نے اپنے الہام و کلام کے ذریعہ سے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ مسیح ابن مریم کے نام پر آنے والا تو ہی ہے اور مجھے