مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 234
234 کے ہاتھوں سے رفع ہوئی۔خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ وہ کامیابی اب ہوئی۔20 اپنا بھائی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فر ماتے ہیں :- ایک دفعہ ہمارے بڑے بھائی حضرت مرزا بشیر الدین محمود حمد صاحب خلیفہ اسی الثانی نے اپنے بچپن کے زمانہ میں جہانگیر کا مقبرہ دیکھنے کا شوق ظاہر کیا اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا :- ”میاں تم جہانگیر کا مقبرہ دیکھنے کیلئے بیشک جاؤ لیکن اُس کی قبر پر نہ کھڑے ہونا کیونکہ اُس نے ہمارے ایک بھائی حضرت مجددالف ثانی کی ہتک کی تھی۔ایک لمبا زمانہ گزرنے پر بھی ایک مسلمان بادشاہ کے ایسے فعل پر جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے اسلامی تاریخ میں گویا ایک عام واقعہ ہے کیونکہ مسلمان بادشاہوں کے زمانہ میں ایسے کئی واقعات گزر چکے ہیں ، حضرت اقدس علیہ السلام کا اس قدر غیرت ظاہر کرنا اور حضرت مجددالف ثانی " کیلئے بھائی جیسا پیارا لفظ استعمال کرنا اس بیگانگت اور محبت اور عقیدت کی ایک بہت روشن مثال ہے جو آپ کے دل میں امت محمدیہ کے صلحاء کیلئے موجزن تھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ارشاد میں خود وضاحت فرما دی ہے۔حضور کی اس ہدایت کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کسی مسلمان کو جہانگیر کا مقبرہ نہیں دیکھنا چاہیے۔وہ ایک جاہ وجلال والا بادشاہ تھا اور ہمیں اپنے قومی اکابر اور بزرگوں بلکہ غیر قوموں کے بزرگوں کی بھی عزت کرنے کا حکم ہے۔مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے بچوں کے دل میں غیر معمولی اسلامی غیرت اور صلحاء امت کا غیر معمولی ادب پیدا کرنا چاہتے تھے۔اس لئے آپ نے اس موقعہ پر اپنی اولا د کو ایک خاص نوعیت کی نصیحت کرنی مناسب خیال فرمائی۔ہے حضرت سید احمد بریلوی صرف ہندوستان کے مجدد تھے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے فرمایا:- حضرت سید احمد صاحب بریلوی بھی بیشک مجدد تھے مگر ساری دنیا کیلئے نہیں تھے۔بلکہ صرف ہندوستان کے مجدد تھے۔اگر کہا جائے کہ وہ ساری دنیا کے مجدد تھے تو سوال