مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 233
233 24 ذیقعدہ 1246ھ بمطابق 17 مئی 1831 ء کو ہوئی۔اسے اگر چہ آپ نے زندگی کی 45 بہاریں دیکھیں لیکن آپ کا مقصد پورا ہوا کہ حق کا بول بالا رہے اور کفار کا سفلی رہے۔ہمیشہ نور مصطفوی بالآخر فتحیاب ہو اور نار بولی کے حصے میں خسران آئے۔یہی غلبہ اسلام کا مشن آپ کے بعد زیادہ وسیع پیمانے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے آگے پہنچا اور ان کی خواہش بھی یہی تھی کہ میرا کام اس وقت مکمل ہو گا جب سارا ہندوستان اسلام لے آئے۔چنانچہ انہوں نے اپنی ہمشیرہ سے فرمایا تھا:۔لوگ کہیں گے کہ سید احمد کا انتقال ہو گیا یا شہادت ہوگئی لیکن جب تک ہندوستان کا شرک ، ایران کا رفض اور سرحد کا غدر نہیں جائے گا میرا کام ختم نہیں ہوگا“۔۔پس سید صاحب کا مشن جو غلبہ اسلام کا مشن تھا آج بھی جماعت احمدیہ کے ذریعے ایک نئی شان سے جاری ہے۔حضرت اقدس نے آپ کو اپنا ارہاص قرار دیا اور فرمایا : - سید احمد بریلوی سلسلہ خلافت محمدیہ کے بارھویں خلیفہ ہیں جو حضرت یحیی کے مثیل ہیں اور سید ہیں۔۲۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:- " جس طرح کہ حضرت عیسی سے پہلے یوحنا نبی خدا تعالیٰ کی تبلیغ کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے اسی طرح ہم سے پہلے اس ملک پنجاب میں سید احمد صاحب توحید کا وعظ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔یہ بھی مماثلت تھی جو خدا تعالیٰ نے پوری کر دی۔سیّد احمد شہید کے شروع کردہ کام کا اتمام ایک مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ:- ہند میں دو واقعہ ہوئے ایک سید احمد صاحب کا اور دوسرا ہمارا۔ان کا کام لڑائی کرنا تھا انہوں نے شروع کر دی مگر اس کا انجام ہمارے ہاتھوں مقدر تھا۔جو کہ اب اس زمانہ میں بذریعہ قلم ہورہا ہے۔اسی طرح عیسی علیہ السلام کے وقت جو نامرادی تھی وہ چھ سو سال بعد آنحضرت