مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 218 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 218

218 توحید الہی سے محبت آپ کو شرک سے نفرت تھی اور توحید سے دلی رغبت تھی۔چنانچہ آپ نے شاہ عبدالعزیز کے ہاتھ پر بیعت کی اور تصوف کے درس لینے لگے اور ایک مرتبہ جب تصور شیخ کا ذکر آیا تو آپ فرمانے لگے کہ حضرت اس میں اور بت پرستی میں کیا فرق ہے۔آپ نے جوابا حافظ کا یہ شعر پڑھا۔مئے سجادہ رنگین کن گرت پرمغاں گوید بہ کہ سالک بے خبر نبود ز راه و رسم منزلها اگر تیرا پیر حکم دے تو مصلے کو بھی مے سے بھگو لے کہ سالک اپنی منزل کے راہ و رسم سے بے خبر نہیں ہوتا۔لیکن آپ نے عرض کیا کہ حضرت کوئی قرآنی آیت یا حدیث بیان فرما ئیں ورنہ مجھے اس سے باز رکھیں۔اس پر شاہ صاحب نے سید صاحب کو سینہ سے لگالیا۔رخساروں اور پیشانی کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا اے فرزندار جمند خدائے برتر نے اپنے فضل و رحمت سے تجھے ولایت انبیاء عطا فرمائی ہے۔آپ کو شب قدر نصیب ہوئی آپ فرماتے ہیں:۔1222 ھ رمضان کو اچانک نیند آئی اور پھر کسی نے جگایا۔بیدار ہوکر دیکھا کہ دائیں بائیں حضور سرور دو عالم ﷺ اور حضرت صدیق اکبر تشریف فرما ہیں اور زبان پر یہ کلمات جاری ہوئے احمد اُٹھ اور فسل کر ، آج شب قدر ہے۔خدا کی یاد میں مشغول ہو اور قاضی الحاجات کے دربار میں دعا اور مناجات کرے۔علم حقیقی سے مراد علم حقیقی کے بارہ میں آپ فرماتے ہیں :- عالم سے یہ مراد نہیں کہ وہ صدور اور شمس بازغہ پڑھ چکا ہو۔یہاں علم سے مراد یہ ہے کہ وہ جانتا ہو کہ اونچی شان والا پروردگار کن باتوں سے راضی ہوتا ہے اور کن سے ناراضی