مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 217
217 فطرتی سعادت آپ اسلام پر مجبول تھے۔انہیں فطرت اتنی سعید، پاکیزہ اور مز کی ملی تھی کہ مرضیات الہی سے خفیف سا اختلاف بھی گوارا نہ تھا اور اتباع سنت کا ذوق طبیعت پر اس قدر غالب تھا گویا ان کی تمام حرکات وسکنات کی عنان شرعیت حقہ کے قبضہ میں تھی۔زمانہ طفلی کا بھی کوئی واقعہ ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا کہ ان کا قدم کبھی جادۂ حق سے ادھر اُدھر جا پڑا ہو کہ انہوں نے عزیمت عملی کے مقابلے میں رخصت کو ترجیح دی ہو۔اعلیٰ اخلاق ایک مجدد کو اخلاق عالیہ پر فائز ہونا ضروری ہے تا کہ وہ دوسروں کیلئے نمونہ بن سکے۔حضرت سید صاحب اخلاق عالیہ سے متصف تھے۔سفرلکھنو کے دوران ایک مرتبہ سب احباب اور اقرباء تھک گئے اور مزدور کی تلاش سے بھی عاجز آگئے اور آگے چلنے سے انکار کر دیا تو آپ نے عہد لیا کہ میری ایک گذارش قبول کرو گے۔جب سب نے عہد کر لیا تو آپ نے اپنی چادر بچھا دی اور فرمایا کہ سب سامان اس میں ڈال دو اور مزدور کی تلاش ترک کر دو۔چنانچہ ھے نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن۔انہوں نے ایسا ہی کیا۔آپ نے سارا سامان خود اُٹھالیا اور خوشی سے یہ کہتے جاتے تھے کہ دوستوں اور بھائیوں نے آج جو احسان مجھ پر کیا ہے اس کی شکر گزاری کا حق عمر بھر ادانہ کر سکوں گا۔ھے ایک مرتبہ ایک مفلوک الحال مزدور بھوک سے تنگ آکر ایک سپاہی کا مٹکا اجرت پر اُٹھانے پر مجبور ہوکر چلا جارہا تھا کہ اجرت ملے تو پیٹ بھروں۔مگر کمزوری اتنی تھی کہ جلد ہانپنے لگا۔سید صاحب نے اسے دیکھ لیا۔آپ نے فرمایا :- و تم اس کی مزدوری اسے ابھی دے دو میں تمہارا بوجھ اُٹھاتا ہوں“۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔تے