مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 208 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 208

ہو جائے۔۲۲ 208 اور جب فتح ہو جائے تو پھر کیا طریق اختیار کرنا چاہیے۔فرمایا :- اور جب فتح ہو جائے تو ملاء اعلیٰ کی رضا اس بات میں ہے کہ ہر طرف تین چار دن کی مسافت پر ایک عادل امیر ہو جو ظالم سے مظلوم کا حق وصول کرے اور حدود کو قائم کرے اور کوشش کرے کہ ان میں بغاوت، جنگ و جدال یا زیادہ ارتداد نہ پیدا ہو اور اسلام پھیلائے۔اس کے شعائر ظاہر ہوں اور ہر بڑے صوبے میں ایک امیر ہو جس کے ذمہ صرف جنگ کی ذمہ داری ہو۔جس کی جمعیت بارہ ہزار مجاہدین پر مشتمل ہو جو اللہ کی راہ میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کریں اور ہر باغی اور فساد و زیادتی کرنے والے سے لڑیں۔اور جب یہ حاصل ہو جائے تو خدا تعالیٰ کی رضا اس میں ہے کہ گھریلو معاملات ،عقو دومعاملات اور اس قسم کی دوسری باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے ، یہاں تک کہ کوئی چیز خلاف شرع نہ رہے اور لوگ ہر لحاظ سے امن میں آجائیں۔۲۳ دعوت الی اللہ آپ کے دل میں شدید تڑپ مسلمانوں کیلئے تھی کیونکہ اس وقت ہر طبقہ کے مسلمانوں میں بگاڑ پیدا ہو چکا تھا۔چنانچہ آپ نے ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلقہ افراد کو الگ الگ تبلیغ کی جس میں انہیں صحیح اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کی۔آپ نے ببانگ دہل فرمایا۔مصطفوی شریعت کیلئے وقت آگیا ہے کہ برہان اور دلیل کے پیر ہنوں میں ملبوس کر کے اسے میدان میں لایا جائے۔۲۴ اور آپ نے جو عظیم الشان تحریک شروع کی تو مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔چنانچہ امیر الروایات میں لکھا ہے کہ: ”دہلی میں نجف علی خان کا تسلط تھا جس نے شاہ ولی اللہ صاحب کے پہنچے اتروا کر ہاتھ بریکار کر دیے تا کہ وہ کوئی کتاب یا مضمون نہ تحریر کرسکیں“۔۲۵ اب آپ کے ارشادات کا ایک خلاصہ طبقہ وار پیش کیا جاتا ہے۔تو آپ نے ارشاد فرمایا۔