مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 207
رو فلسفه 207 آپ کے دور میں یونانی فلسفہ کو عروج حاصل ہور ہا تھا۔آپ نے بجائے اوہام وخرافات سے کام لینے کے خود قرآن وحدیث کے کلیات سے ایک فلسفہ تیار کیا اور وہی فلسفہ جسے لوگ دین کے خلاف استعمال کرتے تھے آپ نے مذہب کے حق میں استعمال کر دیا۔اس سلسلہ میں آپ کی کتاب الخیر الکثیر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔نیز حجۃ اللہ البالغہ اور البدور البازغہ کے اکثر مباحثات کا رخ بھی ادھر ہی ہے۔تصانیف آپ کی قریباً چھپیں کتب کا پتہ ملتا ہے۔جو درج ذیل ہیں۔تفہیمات الہبيد، فتح الرحمن، الفوز الكبير، الفح المير ، تاويل الاحاديث المصفى في احادیث موطا المستوى من المؤطا، شرح تراجم ابواب صحیح البخاری، حمة اللہ البالغہ، الخير الكثير ، البدورالبازغہ الزاهراوین، الاربعین، الدر الثمین ، الارشاد، انسان العین فی مشائخ الحرمین، ازالۃ الخفا عن خلافة الخلفاء، قرة العينين ، حسن العقيده الانصاف، المقدمه السنيه ، الطاف القدس، القول الجميل الهميات اللمحات، السطعات، الهوامع ، شفاء القلوب، فیوض الحرمين، انفاس العارفین ۲۱ تلقین جہاد چونکہ آپ کے زمانے میں جہاد کی شرائط پوری ہو چکی تھیں اس لیے آپ نے مسلمانوں میں جذبہ جہاد بیدار کرنے کیلئے اپنی تقریر وتحریر میں ارشادات فرمائے۔چنانچہ ملوک اسلام اور عسا کر اُمت کو مخاطب کر کے فرمایا:- اے بادشا ہو! اس زمانہ میں مشیت ایزدی یہ ہے کہ تم تلوار میں سونت لو اور اس وقت تک نیام میں نہ ڈالو جب تک اللہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان فرق نہ کر دے اور یہی اس کا ارشاد ہے کہ ان سے اس وقت تک لڑو جب تک فتنہ نہ رہے اور دین خالص اللہ کیلئے