مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 206
206 دوسرے پر پٹختا ہو۔فقہاء کے اقوال قوی ہوں یا ضعیف انہیں یاد کرے بغیر اس امتیاز کے کہ ان میں سے کس میں قوت ہے اور کس میں نہیں اپنے جبڑوں کے زور سے چلاتا رہے۔کلے پھر آپ خود اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے سنت کو عقلیات سے ومنطق سے پاک کیا۔قدماء اہل سنت کے عقائد کو دلائل و براہین کی روشنی میں جس طریقہ سے ثابت کیا گیا ہے اور معقولیوں کے خس و خاشاک سے جیسا ان کو پاک کیا گیا ہے اور ایسے طریقہ سے ان کی بنیاد قائم کی گئی ہے کہ اب ان میں بحث کی گنجائش نہیں رہی۔۱۸ بدعات کے خلاف جہاد ان دنوں ایک بری رسم یہ تھی کہ بیوہ کے دوبارہ نکاح کرنے کو برا سمجھا جاتا تھا۔اس کے علاوہ اور بھی رسومات تھیں جن کا ذکر آپ نے خود تقسیمات الہیہ میں یوں کیا ہے۔ہنود کی بری عادات میں سے ایک یہ تھی کہ جب کسی عورت کا خاوند مرجاتا تو وہ اسے دوسرا شوہر کرنے کی اجازت نہ دیتے اور یہ عادت شروع میں عرب میں نہ تھی۔خدا اس شخص پر رحمت کرے جو اس بری عادت کو ہٹائے۔دیگر عادات شنیعہ میں سے ماتم، چہلم، ششماہی، سال کے بعد فاتحہ خوانی وغیرہ رسومات پر اسراف کرنا ہے۔ان تمام رسومات کا آغاز اسلام میں عرب میں وجود بھی نہ تھا۔19 آج کل کے مسلمانوں کیلئے یہ حوالہ ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔احمدیوں پر اعتراضات کا جو طویل سلسلہ ہے کہ چہلم نہیں کرتے ، قل نہیں کرتے۔بارہویں صدی کے مجدد فرماتے ہیں کہ اوائل اسلام میں عرب میں ان بدعات کا وجود نہیں تھا اور یہ بعد کی پیداور ہیں۔کرامتوں کے بیچنے والے اس زمانہ میں سب کے سب الا ماشاء اللہ اپنی طلسماتی کارروائیوں اور علم نیر نج کے نتائج کو کرامات سمجھے بیٹھے ہیں۔میں نے بہت سے سادہ لوحوں کو دیکھا ہے کہ کسی شیخ سے جب اس قسم کے عمل وغیرہ سیکھ چکتے ہیں تو ان باتوں کو ٹھیک کرامت قرار دیتے ہیں۔۲۰