مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 205
205 "فمن يومئذ انشرح صدرى التصنيف فى العلوم الشرعية“۔کہ اُس دن سے علوم شرعیہ کی تصنیف کیلئے میرا سینہ کھل گیا۔آپ فرماتے ہیں:۔صلى الله سلکنی رسول الله و ربانی بیده فانا اویسیه و تلميذه بلا واسطه بینی و بینه - ۱۴ مجھے رسول اللہ ﷺ نے سلوک کی راہوں پر چلایا ہے اور اپنے ہاتھ سے میری پرورش کی ہے۔پس میں آپ کا شاگرد اور بمنزلہ اولیں ہوں۔میرے اور آپ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے۔آپ کی فراست کا یہ حال تھا کہ آپ عرب کے استاد علامہ طاہر بن ابراہیم کردی کا بیان ہے: يسند عنى اللفظ و كنت اصحح المعنى منه“۔۱۵ وہ مجھ سے الفاظ کی سند لیتے ہیں اور میں ان سے حدیث کے مطالب کی تصحیح کرتا ہوں۔پس آپ ایسے شاگرد تھے جو استاد کو محقق اور محقق کو محقق تر بنا دیتے ہیں۔آپ کی تجدیدی مساعی کا تذکرہ نواب صدیق حسن خانصاحب یوں کرتے ہیں۔علم حدیث ان کیلئے تر و تازہ ہو گیا بعد اس کے کہ وہ ایک حیران شے تھا۔اور اللہ نے ان کے وجود اور ان کے علوم سے بہت سے بندوں کو نفع پہنچایا اور ان کی سعی مشکور سے شرک و بدعت کے فتنوں سے بچایا اور دین کی نئی پیدا شدہ باتوں سے بچایا جس میں کسی عالم کو کوئی اختلاف نہیں۔اور یہ وہ معزز افراد ہیں جنہوں نے سنت کے علم کو دوسرے علوم پر فوقیت دی اور فقہ کو سنت کے تابع اور محکوم بنایا اور اس طرح سے حدیث کا درس دیا کہ اہل روایت کو خوش کر دیا اور اہل درایت کو بھی اس کا مشتاق بنا دیا۔پس ہندوستان اور اہل ہند پر جب تک وہ قائم رہیں ان کا شکریہ ادا کرنا واجب۔17 فقہ ان دنوں بہت بگڑ چکا تھا اور فقیہ حضرات فرضی مباحثات میں وقت ضائع کرتے تھے۔اس لیے آپ نے ان کی مذمت کی اور فرمایا :- اس زمانہ میں فقیہہ اس شخص کا نام ہے جو باتونی ہو اور زورزور سے جبڑے کو