مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 147
147 بغداد کی شاندار حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد تا تاری طوفان مصر و شام کے علاقوں کی طرف رح پھرا۔چنانچہ محمد یوسف کو کن عمر ایم۔اے اپنی کتاب ”امام ابن تیمیہ میں رقمطراز ہیں :- ہلاکو نے بغداد پر اپنا نائب مقرر کیا اور اس کے بعد ملک شام اور ملک مصر کے لینے کی تیاریاں شروع کر دیں۔اس زمانے میں دمشق اور حلب پر ایوبی خاندان کے فرمانروا الملک الناصر بن العزیز اور الملک الظفر سلطان سیف الدین قطر کی حکومت تھی۔جب ان دونوں نے ہلاکو کی اطاعت قبول نہیں کی تو اس نے تاتاری سپہ سالار کتبغا نویں کی سرکردگی میں ایک زبردست فوج روانہ کی۔جس نے صفر 58ھ کے آخر میں بہت ہی آسانی کے ساتھ دمشق پر قبضہ کر لیا اور اس کو خوب لوٹا۔تا تاری فوجیں لوٹ مار کرتی اور بے شمار مسلمانوں کو تہ تیغ کرتی ہوئی آگے بڑھتی چلی گئیں اور ملک شام کی جنوبی سرحد تک پہنچ گئیں۔یہ وہ حالات تھے جن میں امام ابن تیمیہ نے مصر کے لوگوں کو اپنے ملک کی حفاظت کیلئے تا تاریوں کے طوفان کے آگے بند باندھنے کیلئے تلوار اٹھائی اور لڑائی کرنے کی طرف راغب کیا اور پھر آپ کی کوششوں میں خدا نے برکت ڈالی۔آپ کی دعاؤں کو سنا اور مسلمانانِ مصر نے تاتاریوں کو شکست سے دو چار کر دیا تفصیل اس کی یہ ہے کہ :- اس لوٹ مار میں اطراف و اکناف کے شیعہ اور عیسائی بھی تاتاریوں کے ساتھ شریک ہو گئے۔پے در پے مسلمانوں کی شکست و ریخت کی اندوہناک خبریں پہنچنے کے باوجود سلطان مصر سیف الدین قطر نے ہمت نہیں ہاری۔وہ ایک زبر دست لشکر لے کر مصر سے روانہ ہوا اور ملک شام کی جنوبی سرحد کے مقام عین جالوت پر تاتاریوں سے ملاقات کی۔25 ررمضان المبارک 658 ھ کو بڑا ز بر دست معرکہ ہوا۔سلطان سیف الدین قطر کے دوش بدوش امیر رکن الدین بیبرس بندقداری اور دوسرے امیروں نے بڑی جانبازی دکھائی۔امیر جمال الدین آقوش الشمسی نے آگے بڑھ کر تاتاریوں کے سپہ سالار کتبغا نویں ہی کو قتل کر ڈالا۔جس کی وجہ سے تاتاریوں کے پیر میدان جنگ سے اکھڑ گئے اور انہوں نے بہت بری طرح شکست کھائی۔(امام ابن تیمیہ از افضل العلماء محمد یوسف کو کن عمری ایم۔اے، ناشر اسلامی پبلشنگ کمپنی، لاہور 1960ء) پس خلاصه کلام امام ابن تیمیہ جو مجدد وقت تھے ان کو مجبوراً اپنے وطن کی حفاظت کی خاطر شریک جنگ ہونا پڑا اور خدا نے انہیں فتح سے بھی ہمکنار کیا۔