مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 148
148 کو ہستانیوں کو تادیب و تبلیغ 699ھ میں جب تاتاری لشکر دمشق آیا تو کو ہستانیوں نے ان کی مدد کی۔مسلمانوں کو شہید کر دیا اور مال و متاع چھین لیا۔شام کا مطلع صاف ہونے پر امام ابن تیمیہ نے اپنے رضا کاروں اور مجاہدوں کے ہمراہ اور حوران کے باشندوں کو لیے نائب السلطنت جمال الدین آقوش کی رفاقت میں کو ہستانیوں پر حملہ کیا۔حملے کی خبر سن کر قبائلی سردار ابن تیمیہ کے پاس حاضر ہوئے۔شیخ نے ان سے توبہ کرائی اور تبلیغ اسلام کی۔اس طرح انہوں نے مسلمانوں سے بدعہدی نہ کرنے کا اقرار کیا اور مسلمانوں سے چھینا ہوا مال انہیں واپس کر دیا۔۲۷ رو عیسائیت آپ نے مسلمانوں کی اندرونی اصلاح کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا میں بھی اسلام کا پیغام پہنچایا۔یوں تو اس دور میں مسیحی علماء و پادری مسلمانوں سے سوال وجواب کرتے ہی رہتے تھے لیکن امام ابن تیمیہ کی زندگی میں قبرص سے عیسائیوں کی ایک نئی شاطرانہ تصنیف پہنچی جس نے کافی سند قبولیت حاصل کی۔اس کتاب میں الوہیت مسیح نیز حضور ﷺ کوصرف عرب کا نبی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔آپ نے اس کے رد میں ایک رسالہ الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح“ اس کا ذکر کرتے ہوئے شیخ محمد ابوزہرہ لکھتے ہیں :- “ لکھا۔وان هذا الكتاب أهدأ ما كتبه ابن تيميه في الجدال وهو وحده جدير بان يكتب ابن تيمه في سجل العلماء العاملين والائمة المجاهدين والمفكرين الخالدين“۔( ترجمہ ) امام ابن تیمیہ کی مناظرانہ تصنیفات میں سے یہ کتاب سب سے زیادہ عمدہ ہے اور یہ کتاب تنہا ان کو با عمل علماء مجاہد ائمہ اور غیر فانی مفکرین کا مرتبہ دلانے کیلئے کافی ہے۔تجدید بذریعہ خطابت آپ فنِ خطابت کے شاہ سوار تھے۔آپ اپنی مواعظ اور پر اثر تقاریر سے کا شانہ باطل پر آگ