مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 146
146 کہ تمام مجددین نے رشد و اصلاح کیلئے وعظ و تلقین اور اپنے عملی نمونہ کو طریق عمل بنایا۔امام ابن تیمیہ کی تقاریر بھی ایسی جانفزا ہوتی تھیں کہ مردہ دلوں میں روح پھونک دیا کرتی تھیں۔اور یہی آپ کی پیدا کردہ اصلاح کی روح رواں تھیں۔لیکن آپ نے اپنے عین حیات مصر میں تا تاریوں کے خلاف جہاد بالسیف بھی کیا۔یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر آپ نے تلوار کیوں اُٹھائی۔اس سوال کا حل زیادہ مشکل نہیں۔کیونکہ امام ابن تیمیہ نے اپنے ملک کی حفاظت کی خاطر اور جارحانہ حملہ آوروں کے مقابل اپنے دفاع کیلئے مجبورا تلوار اُٹھائی۔ساتویں صدی ہجری میں وسط ایشیا کی اسلامی سلطنتوں کی حالت دگرگوں تھیں۔شیعہ سنی اختلاف کی وجہ سے ان کی اجتماعی طاقت کھوئی گئی جس سے تاتاریوں نے بھر پور فائدہ اُٹھایا اور ان کی افواج مسلم علاقوں پر قابض ہو گئیں۔چنانچہ درج ذیل حوالے میں ان کے حالات کی منظر کشی کی گئی ہے۔ساتویں صدی ہجری کا زمانہ وسطی ایشیا کی اسلامی سلطنتوں کیلئے بہت ہی ہولناک زمانہ تھا۔اسی زمانے میں قراقرم کی پہاڑیوں سے تاتاریوں کا ایک زبر دست طوفان اٹھا جس کی وجہ سے اسلامی سلطنتوں کی بنیادیں ہل گئیں۔بے شمار مسلمان تہ تیغ ہو گئے اور بہت سے آباد شہر ویران ہو گئے۔ان تاتاریوں کو سب سے پہلے چنگیز خان نے ایک مرکز پر جمع کیا۔اس نے 599ھ سے لے کر 24ھ تک بڑے کروفر اور شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی۔اس نے خوارزم شاہی جیسی عظیم الشان سلطنت کے پرخچے اڑا دئیے اور تمام لوگوں کے دلوں پر اپنی دھاک بٹھا دی۔چنگیز خان کے بعد اس کا لڑکا اوکتائی خان (0624 تا 643ھ ) اور پوتا کیوک خان بن اوکتائی خاں (643ھ تا 647ھ ) تخت نشین ہوا۔کیوک خان کے مرنے کے بعد تا تاری امیروں نے منگوخان بن تولی بن چنگیز خان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔جس نے اپنے بھائی ہلا کو بن تولی کو ایران کا مستقل حاکم بنا دیا تھا۔اس زمانے میں بغداد پر عباسی فرمانروا مستعصم باللہ کی حکومت تھی۔بغداد میں سنی شیعہ کشکش زوروں پر تھی۔ان دونوں فرقوں کے درمیان آئے دن جھگڑے اور فسادات ہوتے رہتے تھے۔جب 655ھ میں مستعصم باللہ نے سنیوں کی حمایت میں بغداد کے محلہ کرخ کو، جہاں زیادہ تر شیعہ آباد تھے لٹوا دیا تو اس کے شیعہ وزیر مویدالدین ابو طالب محمد بن احمد بن علی بن محمد العلقمی نے ہلا ک کو بغداد آنے کی دعوت دی۔