مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 145 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 145

145 ا۔تلخيص كتاب الاستغاثه المعروف بالرد على البكرى ۲۔کتاب الردّ على الاخنائی و استحباب زيارة البرية والزيارة الشرعية ۳۔رسالۃ الفرقان ۴۔معارج الوصول ۵۔التبیان العقیدہ الحموية الكبرى - رساله العقود الوصیۃ الکبری - المحرمة ۹- الرد على الفلاسفة 2 جذبہ جہاد آپ نے اپنی درد بھری، پر جوش تقاریر کے ذریعے مسلمانوں میں جذبہ بیداری پیدا کیا۔اس وقت تا تاری درندے مسلمانوں کیلئے بلائے عظمیٰ بنے ہوئے تھے۔آپ کی تقاریر سے مسلمانوں میں جذ بہ جہاد عود کر آتا اور وہ شیر بن کر میدان میں اترتے۔جب یہ بات پھیلی کہ تاتاریوں کے ساتھ جنگ کرنا جائز ہے یا نہیں تو آپ نے فتویٰ دیا کہ یہ خوارج کے حکم میں ہیں اس لیے جنگ جائز ہے۔آپ نے مسلمانوں میں یقین پیدا کرنے کیلئے کہ فتح انہیں کی ہوگی فرمایا کہ صرف انشاء اللہ نہ کہا کرو بلکہ انشاء اللہ تحقیقاً لا تعلیقاً کہا کرو۔جب آپ کی تقاریر سے متاثر ہوکر مسلمانوں کے لشکر بننے لگے اور با قاعدہ خروج کیلئے تیار ہو گئے ، آپ خود بحیثیت مجاہدان میں شامل تھے۔آپ نے فتویٰ دیا کہ مجاہدین روزہ کھول دیں۔ہر علم کے پاس جاتے اور کھانے کی چیزیں انہیں دکھا کر کھاتے اور ساتھ یہ حدیث سناتے انکم ملاقوا العدو والفطرا قوى لكم۔چنانچہ مسلمانوں کا لشکر جنگ کیلئے روانہ ہوا اور خدا کے فضل سے مسلمانوں کے لشکر کو فتح نصیب ہوئی۔اسی طرح آپ نے جہاد پر آمادہ کرنے کیلئے سلطان الناصر “ کو کئی خطوط بھی تحریر کیے۔۲۲ ذہن میں ابھرنے والے ایک اہم سوال کہ ข امام ابن تیمیہ نے تاتاریوں کے خلاف تلوار کیوں اٹھائی کا جواب حاضر ہے۔اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے۔اس میں جارحانہ تلوارکشی کی کوئی گنجائش نہیں۔اس کتاب میں جملہ مجددین کے حالات و تجدیدی کارنامے بیان ہوئے ہیں۔قارئین بخوبی یہ امر نوٹ کر سکتے ہیں