مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 144 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 144

144 حصہ ہے اور بعض مستقل رسالے بھی ہیں جیسے رسالۃ القیاس ، منہاج الوصول على علم الاصول وغیرہ۔علم کلام ابن تیمیہ کی نصف تحریر علم کلام پر بنی ہے۔آپ بگڑے ہوئے اشاعرہ کے متعلق کہا کرتے تھے کہ ان کے متکلمی عقائد محض جہمیہ، نجاریہ اور ضرار یہ وغیرہ کی آراء کا مجموعہ ہیں۔کلام کے متعلق آپ کی کتب میں شرح اصبہانیہ، رسالہ حمدیہ، تذمریہ، واسطیہ ، کیلانیہ، بغداد یہ، از ہر یہ زیادہ مشہور ہیں۔آپ کے خیالات واستدلال حمیت دینی اور آپ کی ذہانت کے مظہر ہیں۔اس طرح آپ نے فکر اسلامی کا احیاء کیا اور یہ آپ کا بہت بڑا تجدیدی کارنامہ ہے۔آپ نے ہر مسئلے کو قرآن وسنت کی روشنی میں سمجھنے کا اصول اپنایا اور بتایا کہ اسلام کی بنیاد قرآن اور نبوت محمدی پر ہے۔اس طرح فکر اسلامی پر جو جمود و اضمحلال طاری ہونے لگا تھا۔آپ نے اس کو دور کر دیا۔نئی عملی را ہیں ، نئے فکری زاویے تلاش کیے۔ایسا لٹریچر چھوڑا جسے پڑھ کر فکر میں جولانی اور تحریک و نشاط پیدا ہوتا ہے۔اس کے اثر سے بعد کے ہر دور میں اچھے مصنف اور مصلح پیدا ہوتے رہے۔آپ علوم و افکار اسلامیہ کے مجدد کبیر تھے۔بارھویں صدی میں عالم اسلام کے مختلف گوشوں سے جو اسلامی تحریکیں اُبھری ہیں ان کے ماخذوں میں سے بڑا ماخذ اور محرک امام ابن تیمیہ کی تصانیف ہیں۔تصانیف گمگشتگان آپ نے صدہا کتب لکھ کر شریعت غرا کے مدہم اور کھردرے نقوش کو صیقل کیا گے وادی ضلال کو پکار پکار کر صراط مستقیم کی طرف بلایا اور علم کے میدان میں تلوار سونت کر چو کبھی لڑائی لڑی۔شجاعت وجلاوت کے جوہر دکھائے۔بسا اوقات ان کی شعلہ ریز تقاریر سے اور علمی تحریروں سے مسلمانوں میں زندگی کی ایسی لہر دوڑ گئی کہ تا تاری درندوں کے چھکے چھوٹ گئے۔آپ کی پر جوش تصانیف کے نتیجے میں محمد بن عبد الوہاب نجدی کی تحریک ابھری۔آپ نے قریباً پانچ صد تصانیف تحریر کی ہیں۔نواب صدیق حسن خان اور غلام جیلانی برق نے آپ کی چار سواسی کتب کے نام لکھے ہیں۔ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔