مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 143
143 میں فقہاء سے اختلاف کیا۔ا۔آپ حلالہ کے قائل نہ تھے۔۲۔ایام حیض کی طلاق آپ کے نزدیک باطل تھی۔۳۔آپ کے نزدیک اگر کوئی شخص ایسے لگان ادا کرے جو احکام الہی سے فرض نہیں ہیں تو بھی اس کی زکوۃ ختم ہو جائے گی۔۴۔اجماع کے خلاف رائے رکھنا کفر ہے نہ معصیت۔۔صفات باری تعالیٰ سے متعلقہ آیات کی لفظی تفسیر کیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ کہنے لگے خدا آسمان سے زمین پر اس طرح اترتا ہے جس طرح میں اب اتر رہا ہوں“۔اور منبر پر سے ایک سیڑھی نیچے اتر آئے۔۔آپ کے متعلق اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ نے حضرت علی کی شان میں گستاخی کی اور کہا کہ حضرت علی نے تین سو غلطیاں کی ہیں۔دراصل بات یہ ہے کہ جبل کسروان کے ایک غالی شیعہ نے عصمت علی پر آپ سے بحث کی اور آپ نے تاریخی لحاظ سے یہ ثابت کیا کہ حضرت علی سے غلطیاں ہوئیں۔دراصل آپ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ معصوم عن الخطاء صرف انبیاء ہوتے ہیں۔ویسے آپ صحابہ کا بہت زیادہ ادب و احترام کرتے تھے۔چنانچہ اپنی کتاب العقیدہ والحمد یہ میں فرماتے ہیں وہ لوگ ظن و شک کی ظلمتوں سے نکل کر ایقان و ایمان کی روشن دنیاؤں میں پہنچے ہوئے تھے۔ان کی راہ میں شبہات کے کانٹے نہ تھے تخمین وطن کی جھاڑیاں نہ تھیں ،منطق و فلسفہ کی الجھنیں نہ تھیں۔۲۳ انہوں نے کتاب اللہ کو ہاتھ میں لے کر مشرق و مغرب میں بہترین عملی نمونہ ظاہر کیا۔ان سے 66 کتاب الہی بولتی تھی اور ان کا علم بنی اسرائیل کے انبیاء سے کم نہ تھا۔ان کی وسعتِ نگاہ، پرواز فکر اور محیر العقول قوت ادراک کو ناپنے کیلئے کوئی مقیاس موجود نہ تھی۔سے علم اصول فقہ یہ آپ کا پسندیدہ اور ذوقی موضوع تھا۔اس میں آپ مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔ان کی کوئی تصنیف اصولی مباحث سے خالی نہیں۔اقتضاء الصراط المستقیم اور ان کے فتاویٰ میں اس علم کا وافر