مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 139 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 139

139 قبر پرستی کے خلاف اسی طرح آپ قبر پرستی اور قبور پر مساجد بنانے کو بھی غلط خیال کرتے تھے۔آپ نے سختی سے منع فرمایا اور واضح کیا کہ یہ خیر القرون کے بعد کی پیداوار ہے اور حضور ﷺ نے تو وفات سے چندر روز قبل فرمایا تھا ان كان من قبلكم كانوا يتخذون القبور مساجدًا الا فلا تتخذو القبور مساجدًا فانى انهاكم عن ذالک۔صحابہ کا طرز عمل یہ تھا کہ جب مسلمانوں نے ارض مقدسہ وغیرہ کے علاقے کو فتح کیا تو دانیال نبی کی قبر پر لوگ بارش مانگنے جاتے تھے۔حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ دن کو تیرہ قبریں کھود کر رات کو ان میں سے کسی ایک میں انہیں دفن کر دو تا کہ لوگ فتنہ سے بچیں۔سے اسی طرح آپ نے اولیاء کے مزارات کی زیارت کی شدید مذمت کی ہے کیونکہ اس وقت زیارت میں شرک داخل ہو چکا تھا اور جب کسی بری شے کا خاتمہ کرنا ہو تو بہت سختی کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ کہا کرتے تھے کیا آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف تین مسجدوں کا سفر اختیار کرو۔مسجد الحرام، بیت المقدس اور میری مسجد (مسجد نبوی ) کا کوئی شخص اگر محض نبی کریم ﷺ کے روضہ کیلئے سفر کرے تو یہ بھی نا جائز ہوگا۔شراب نوشی کے خلاف جہاد تا تاری افواج جب دمشق سے روانہ ہو گئیں اور مسلمان افواج کی آمد آمد ہوئی تو حافظ ابن تیمیہ جیسے مصلحین نے قوم کی خرابیوں کی اصلاح کی طرف توجہ دینا شروع کی۔دمشق میں کوئی ذمہ دار افسر نہ تھا۔حافظ صاحب نے یہ کام اپنے ہاتھ میں لیا، اپنے تلامذہ کے ساتھ سارے شہر کا دورہ کیا۔جہاں شراب خانہ نظر آیا اس کے مشکے اور جام و سبوح توڑ ڈالے اور شراب انڈیل دی۔میخانوں کے مالکوں، اوباشوں، رندوں اور افعال شنیعہ کے مرتکب افراد کی تعذیر کی اور شہر میں عام طور پر اس کارروائی پر اظہار مسرت کیا گیا۔۵۔بدعات و منکرات کا ازالہ دمشق کے گردونواح میں نہر فلوط کے کنارے پر ایک چٹان تھی جس کے متعلق مختلف روایات