مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 140
140 مشہور تھیں۔جاہل و تو ہم پرست مسلمان وہاں جا کر منتیں مانگتے تھے۔704ھ میں ابن تیمیہ وہاں تھے۔ایک دن آپ مزدوروں اور سنگ تراشوں کے ساتھ خود وہاں گئے اور چٹان کو کاٹ کر رکھ دیا۔اس طرح شرک کا ایک دروازہ بند کر دیا۔جیل خانے میں اصلاحی قدم آپ کو زندگی کے کئی سال قید خانے میں گزارنے پڑے۔آپ نے عسر و یسر میں فریضہ تجدید و تبلیغ سر انجام دیا اور حضرت مصلح موعودؓ کے اس شعر کے مصداق ہوئے عر ہو یسر ہو تنگی ہو کہ آسائش ہو کچھ بھی ہو بند مگر دعوتِ اسلام نہ ہو شیخ علم الدین البرزالی لکھتے ہیں:- شیخ جب مجلس میں پہنچے تو دیکھا قیدی لہو ولعب اور تفریحات میں مشغول ہیں اور اسی طرح اپنا دل بہلاتے ہیں اور وقت کاٹتے ہیں۔شطرنج اور چوسر وغیرہ کا زور ہے۔نمازیں بے تکلف قضا ہوتی ہیں۔شیخ نے قیدیوں کو نماز کی پابندی اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ دلائی، اعمال صالحہ تسبیح و استغفار اور دعا کی طرف متوجہ کیا اور سنت کی تعلیم اور اعمال خیر کی ترغیب شروع کی۔یہاں تک کہ جیل خانہ بہت سی خانقاہوں اور مدارس سے زیادہ بارونق اور بابرکت نظر آنے لگا۔لوگوں کو ان کی ذات سے ایسا تعلق اور جیل کی اس دینی و علمی زندگی سے ایسے دلچسپی ہوگئی کہ بہت سے قیدی رہائی پانے کے بعد بھی ان کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں تھے اور انہیں کی خدمت میں رہنا پسند کرتے تھے۔کلے رد فلسفه فلسفہ، منطق اور کلام اس وقت قرآن وسنت میں متصادم تھے لہذا آپ نے ان کارڈ کیا اور ان کے مقابل پر قرآن وسنت کی ترویج و اشاعت میں حصہ لیا۔آپ کا اصول استدلال یہ تھا کہ پہلے قرآن سے استدلال کرتے اور زیر نظر مضمون پر تمام آیات یکجا کرتے۔پھر سنت و حدیث سے استنباط کرتے اور درایت وروایت کے لحاظ سے پر کھتے۔پھر صحابہ کے طریق اور فقہائے اربعہ اور مشہور آئمہ کے اقوال زیر بحث لاتے۔