مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 138
138 رسومات اور بدعقائد کے خلاف جہاد اس دور میں مسئلہ وحدت الوجود انتہائی صورت اختیار کر گیا تھا۔اس کا تذکرہ خود ابن تیمیہ یوں فرماتے ہیں:۔ایک آدمی نے ” تلمسانی“ سے کہا کہ ” فصوص الحکم تو قرآن کے خلاف ہے۔اس نے جواب دیا قرآن تو سارا شرک سے بھرا ہوا ہے۔وہ رب وعبد کے درمیان فرق کرتا ہے۔تو حید تو ہمارے کلام میں ہے۔2 گمراہی کی انتہاء اس حد تک تھی کہ تلمسانی کے کسی رفیق نے خارش زدہ کتے کے پاس سے گزرتے ہوئے تلمسانی سے پوچھا کیا یہ بھی ذات خداوندی ہے۔اس نے جواب دیا ہاں سب اس کی ذات کے اندر ہے۔ایک مرتبہ اس سے کسی نے پوچھا کہ جب وجود ایک ہے تو بیوی حلال اور ماں حرام کیوں ہے۔اس نے کہا کہ ہمارے نزدیک سب ایک (طرح ہی) ہے۔نا چنانچہ آپ نے اس کے رڈ میں رسالے تحریر کیسے اور ان میں دلائل قاطعہ سے ذات حق اور صفات حق کا فرق واضح کر دیا۔اس طرح اس فتنے کا قلع قمع کر دیا۔مردہ پرستی کے خلاف دوسرا بڑا مرض مردہ پرستی اور پیر پرستی کا تھا۔آپ نے اس کے رد میں فرمایا: - " آپ ﷺ نے اپنی امت کو کسی مردے، پیغمبر یا صالح آدمی سے دعا کرانے کی اجازت نہیں دی، نہ استغاثہ کے طور پر نہ استعاذہ کے طور پر۔اسی طرح آپ کی امت کیلئے کسی مردہ یا زندہ کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔لا اسی طرح مزید فرمایا :- ملائکہ یا انبیاء سے دعا کرنا (ان کے انتقال کے بعد یا ان کی غیر موجودگی میں ) ان سے مانگنا، ان کی دہائی دینا اور ان سے یا ان کے مجسموں سے سفارش چاہنا ایک نیا دین ہے۔جس کو اللہ تعالیٰ نے مشروع نہیں کیا اور نہ کسی نبی کو اس کے ساتھ مبعوث فرمایا اور نہ کوئی آسمانی کتاب اس کی تائید میں نازل فرمائی۔۱۳ الله