مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 135 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 135

135 سلطان الناصر نے انہیں مدرس کے طور پر بحال کر دیا۔رجب 720ھ میں طلاق بالیمین کے مسئلہ میں حکومتی مسلک کے خلاف عقیدہ پر دمشق کے قلعے میں پابند سلاسل کیا گیا اور پانچ ماہ اٹھارہ دن بعد رہائی ملی۔710ھ میں بھی آپ کو انبیاء و اولیاء کے مزارات پر جانے کے متعلق فتوی دینے پر دمشق کے قلعے میں قید کر دیا گیا۔لیکن چونکہ آپ ایک مجدد تھے اس لیے در پس دیوار زنداں بھی آپ قرآن کی تفسیر کرنے ، اپنے مخالفین کے باطل عقائد کے رد میں کتب لکھنے اور اسی طرح اختلافی مسائل کے بارہ میں مستقل کتب لکھنے میں مشغول رہے۔جب دشمنوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے کاغذ، قلم اور روشنائی چھین لی۔اس واقعہ سے انہیں زبردست دھچکا لگا اور قید خانہ میں صرف نماز اور تلات قرآن میں مشغول رہنے لگے۔وفات و نماز جنازه اسی حالت میں مزید بیس روز زندہ رہے اور 20 ذیقعدہ 728ھ کو انتقال کر گئے۔ائمۃ الحدیث شیخ یوسف المزی وغیرہ نے غسل دیا اور مقابل صوفیہ میں دفن ہوئے۔آپ کے جنازے میں دولاکھ مرد اور پندرہ ہزار عورتیں شریک ہوئیں۔چار مختلف مقامات پر آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔بزاز کہتے ہیں کہ کوئی شہر ایسا نہیں جہاں ابن تیمیہ کی وفات کی خبر پہنچی ہو اور جنازہ غائب ادا نہ کیا گیا ہو۔ہے اسی طرح ابن رجب کہتے ہیں :- ( ترجمہ ) ان کی نماز جنازہ غائب اکثر اسلامی ملکوں میں ادا کی گئی۔خواہ قریبی ہوں یا بعیدی یہاں تک کہ یمن اور چین میں بھی ادا کی گئی۔اور مسافروں نے ہمیں بتایا کہ چین کے نواح میں بھی بروز جمعہ ان کی نماز جنازہ کا اعلان ترجمان القرآن کی نماز جنازہ کہہ کر کیا گیا۔سے مناقب علامہ کمال الدین زملکانی نے کہا هو حجة الله القاهرة هو بيننا اعجوبة الدهر۔ابو حیان نے لکھا ” آپ علم کا وہ سمندر ہیں جس کی لہریں موتی اچھالتی رہتی ہیں۔ہے ابن بطوطہ بیان کرتے ہیں :-