مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 136 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 136

136 ابن تیمیہ شام کے بلند مرتبہ فرد تھے۔آپ علوم وفنون میں گفتگو کیا کرتے تھے اور اہل دمشق آپ کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ہے اس دور کی حالت زار اس وقت عربی خلافت پارہ پارہ ہو چکی تھی۔تاتاریوں کے مظالم سے زمین کا نپتی تھی۔انسانی فریادوں سے گنبد خضراء گونج رہا تھا۔مسلمانوں کے فرقے رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق ستر سے زائد ہو چکے تھے۔تکفیر وتفسیق کا وہ غلغلہ تھا کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔پیر پرستی، قبر پرستی ،علماء پرستی، امام پرستی غرض خدا کے سوا ہر شے کی پرستش ہورہی تھی۔قرآن کو مہجور کی طرح چھوڑ کر موضوع احادیث اور اقوال صوفیاء کو بنائے دین بنایا جارہا تھا۔بدعات کا نام ایمان تھا۔کورانہ تقلید نے امت کو خوض و تفکر سے بیگانہ کر دیا تھا۔علمی عملی تنزل اور تنگ ظرفی پیدا ہو چکی تھی۔اہل کتاب اور عجمی اقوام کے اختلاط سے اسلام میں اوہام واباطیل داخل ہو چکے تھے۔عین اس وقت جب اسلام کو ایک مجدد اور ایک مجاہد کی شدید ضرورت تھی۔عین اس وقت علم و ہدی کا روشن ستارہ آسمان دمشق پر نمودار ہوا جس کی ضیاء پاشیوں سے مشرق و مغرب جگمگا اُٹھے۔یہ شاعرانہ اطراء نہیں بلکہ امر واقعہ ہے۔آپ کی کتب ایک طرف مصر، ہند، حجاز اور ایران کی لائبریریوں کی زینت ہیں تو دوسری طرف برلن لنڈن، فرانس اور روم کے دارالکتب بھی ان سے آراستہ ہیں۔حضرت امام ابن تیمیہ نے موجود الوقت مشرکانہ رسومات کا حال یوں بیان کیا ہے:۔ان میں سے بعض یوں دعا کرتے ہیں کہ اے پیر میری مغفرت فرما دیجئے۔مجھ پر رحم کھائیے۔بعض پیر کی قبر کو سامنے اور کعبہ کو پیٹھ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں قبر تو خواص کا قبلہ ہے اور کعبہ عوام کا۔خدا کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ائمہ وشیوخ کی زیارت حج بیت اللہ سے افضل ہے۔بعض نماز سے افضل شیخ کی دعا کو قرار دیتے ہیں۔شیعوں کے ایک فرقے کا گانا یوں ہے تعالو نخرب الجامع ونكسر المنبر ونخرق المصحف و ننتف لحية القاضي ونجعل فيه خماره و نـجـعـل مـنــه طنباره ونجعل منه زمارة و نـجـعـل مـنـه اوتاره