مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 104
104 آپ کی پونجی اور حلم آپ کا پیشہ اور ذکر آپ کا وزیر اور فکر آپ کا فسانہ گو اور مکاشفہ آپ کی غذا اور مشاہدہ آپ کی شفاء اور آداب شریعت آپ کا ظاہر اور اوصاف و اسرار حقیقت آپ کا باطن تھا۔۵۔شیخ معمر رقمطراز ہیں:۔آپ باوجود عظمت و بزرگی و افضلیت علمی کے چھوٹوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے اور بڑوں کی تعظیم کرتے اور انہیں سلام کیا کرتے۔غرباء وفقراء کو اپنے پاس بٹھاتے اور ان سے عاجزی سے پیش آتے۔امراء ورؤساء کی تعظیم کیلئے آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے اور نہ کبھی وزراء وسلاطین کے دروازہ پر گئے۔11 امراء سے اس سلوک کا باعث یہ تھا کہ وہ متکبر ہو چکے تھے اور دوسروں سے خدمت کرانے کے خواہشمند ہوتے تھے اور یہ بڑی بری بات ہے۔اس لیے ایک مجدد کی حیثیت سے آپ نے انہیں احساس دلایا کہ اسلام ان بری عادات سے منع کرتا ہے۔اسی وجہ سے آپ امراء سے ذراسختی سے بھی پیش آتے تھے۔ان کی برائیوں کی طرف انہیں توجہ دلاتے تو لکھتے کہ عبدالقادر تمہیں حکم دیتا ہے۔تم پر اس کا حکم نافذ اور اس کی اطاعت واجب ہے۔وہ تمہارا پیشوا اور تم پر حجت ہے“۔آپ کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص یہ گمان کرتا تھا کہ آپ سب سے زیادہ اسے پیار کرتے ہیں۔آپ اپنے مریدوں کو یا د رکھتے اور ان کا حال پوچھتے۔ان کے قصور کو معاف کر دیتے۔اگر کوئی شخص آپ کے سامنے قسم کھا لیتا تو اس کی تصدیق کرتے اور اس کے متعلق اپنا حال مخفی رکھتے۔آپ کی راست گوئی کا مشہور واقعہ آپ کے بچپن کا ہے۔جب چوروں کے ایک قافلے کو آپ کی راست گوئی کے سبب ہدایت نصیب ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”چوروں قطب بنایا ائی میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔شیخ محمد قائد روانی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کے پاس تھا۔میں نے آپ سے یہ پوچھا کہ آپ کی عظمت و بزرگی کا دار ومدارکس بات پر ہے۔آپ نے فرمایا راست گوئی پر۔میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولاحتی کہ جب میں مکتب میں پڑھتا تھا جب بھی کبھی جھوٹ نہیں بولا۔کلے