مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 103
103 ہیں:۔کے شیخ الشیوخ تھے۔آپ مجلس وعظ منعقد کیا کرتے تھے اور آپ کے وعظ میں بڑی مقبولیت تھی اور آپ با برکت وجود تھے۔عبد الحق محدث دہلوی نے شیخ کا مقام روحانی ان الفاظ میں بیان کیا ہے مرتبہ قطبیت کبری و ولایت عظمی۔۱۳ وو -۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی تحریر سے بھی آپ کا مقام واضح کیا جائے۔آپ فرماتے دوسشمس طلوع نہیں ہوتا مگر یہ کہ وہ مجھے سلام کرتا ہوا نکلتا ہے۔اور اسی طرح سے سال اور مہینے مجھے سلام کرتے ہیں اور تمام واقعات کی مجھے اطلاع دیتے ہیں۔نیک بخت اور بد بخت بھی میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔میری نظر لوح محفوظ پر ہے اور میں اس کے علوم و مشاہدات کے سمندروں میں غوطے لگا رہا ہوں۔میں نائب رسول اور آپ کا وارث اور تم پر حجت ہوں۔تمام اولیاء، انبیاء علیہم السلام کے قدم بقدم ہوں۔آپ (ﷺ) نے اپنا کوئی قدم نہیں اُٹھایا مگر یہ کہ وہاں بجز اقدام نبوت کے میں نے اپنا قدم رکھا۔میں ملائکہ وانس وجن کل کا ہوں“۔ان کا مشہور فقرہ ہے "قـدمـى هـذه على رقبة كل ولی اللہ“ کہ میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے۔عظمت کردار تجدیدی کارناموں میں مجدد کے کردار کا بیان بھی ضروری ہے کیونکہ سیرت وکردار سب سے بڑی تبلیغ ہوا کرتا ہے اور بہت سی روحیں اسوہ دیکھ کر ہی راہ حق پر آ جاتی ہیں۔چنانچہ مفتی عراق محی الدین ابو عبد اللہ محمد بن حامد بغدادی نے آپ کے اخلاق کا نقشہ یوں بیان کیا ہے :- وو تو فیق وتائید الہی آپ کے ساتھ تھی۔علم آپ کا مربی و مہذب اور قرب الہی آپ کا اتالیق اور حضور آپ کا خزانہ اور معرفت آپ کا تعویذ اور کلام آپ کا مشیر اور نظیر آپ کا سفیر اور انس آپ کا مصاحب اور بسط آپ کی جان اور راستی آپ کا علم اور فتوحات روحانی