مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 102
102 طرف سے ایک چمکتا ہوا ستارہ نکلا۔تب اس ستارہ کو دیکھ کر سید عبد القادر بہت خوش ہوئے اور ستارہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا السلام علیکم اور ایسا ہی ان کے رفیق نے السلام علیکم کہا اور وہ ستارہ میں تھا۔المومن يُرى و يرى له“۔2 حافظ محمد ابراہیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1883ء میں جب شہب گرے تو حضور اقدس نے فرمایا ” اس وقت میں دیکھ رہا تھا کہ میں اور سید عبدالقادر برابر کھڑے ہیں۔پھر میں نے دیکھا کہ شیخ سعدی اور سید عبدالقادر ایک باغ میں سیر کر رہے ہیں۔2 حافظ نورمحمد صاحب سکنہ فیض اللہ چک ضلع گورداسپور نے بیان کیا:- ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ دیکھا کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ نے پانی گرم کرا کر مجھے غسل دیا ہے اور نئی پوشاک پہنائی ہے اور گول کمرہ کی سیٹرھیوں کے پاس کھڑے ہوکر فرمانے لگے کہ آؤ ہم اور تم برابر کھڑے ہوکر قد نا ہیں۔پھر انہوں نے میرے بائیں طرف (دائیں طرف۔الحکم ) کھڑے ہوکر " کندھے سے کندھا ملایا تو اس وقت دونوں برابر رہے۔طے اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں:- ”اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح رسول کریم ع کے ذریعے ایک زندہ خدا لوگوں کو نظر آیا۔اسی طرح ابو بکر اور عمر اور عثمان اور علی کے ذریعے بھی لوگوں کو ایک زندہ خدا نظر آیا تھا اور پھر ویسا ہی زندہ خدا حضرت حسن بصری، حضرت عمر بن عبدالعزیز ، حضرت شہاب الدین سہروردی، حضرت معین الدین چشتی اور سید عبد القادر جیلانی وغیرہ کے ذریعے بھی نظر آتا تھا۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کے زندگی بخش اثرات کو برابر قائم رکھا۔اے اسی طرح دوسرے بزرگوں نے بھی آپ کا مقام بیان کیا ہے۔چنانچہ ابن خلکان کہتے ہیں :- لم يكن في اخر عمره في عصره مثله۔۔و كان شيخ الشيوخ ببغداد۔۔۔۔۔۔و كـان لـه مـجـلـس وعظ وعلى وعظه قبول كثير و له نفس مبارک“۔( ترجمہ ) آخری عمر میں آپ کے زمانے میں کوئی آپ کا مثیل نہیں تھا اور آپ بغداد