مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 61
61 کے معنی اور تفسیر کے سلسلہ میں سوالات کرتے رہتے۔جب دھوپ چمک اُٹھتی تو یہ گروہ بھی اُٹھ جاتا۔پھر حلقہ مناظرہ و نظر قائم ہو جاتا، دوپہر سے پہلے تک یہ جمگھٹ قائم رہتا۔اس کے بعد عربیت، عروض، شعر اور نحو کے تشنہ کام آتے اور دو پہر تک وہ کسب فیض حاصل کرتے رہتے“۔1 امام شافعی کے نزدیک علم کی دو اقسام ہیں، علم عامہ اور علم خاصہ۔آپ کے نزدیک علم عامہ سے مراد نماز، روزہ، حج ، زکوۃ وغیرہ کا علم ہے۔جن میں کوئی تنازعہ و تاویل نہیں جن کی نص قرآن کریم سے ملتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اس علم کا جاننا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے۔کلے آپ وعظ و نصیحت کے ذریعے بھی عوام وخاص کو متاثر کیا کرتے تھے۔وعظ میں امام صاحب کو خاص قسم کا ملکہ حاصل تھا۔لوگوں پر آپ کے وعظ کا بہت اثر پڑتا تھا۔ایک مرتبہ امام صاحب نے ہارون الرشید کے دربار میں وعظ کیا۔بادشاہ آپ کے وعظ سے اس قدر متاثر ہوا کہ بے اختیار رونے لگا اور وعظ کے ختم ہونے پر اس نے پچاس ہزار درہم امام صاحب کی نذر کیے۔11 امام شافعی اور قرآن امام شافعی گویا عاشق قرآن تھے۔ہر مسئلہ میں فوراً قرآن کی طرف رجوع کرتے اور قرآن سے استدلال کرتے۔آپ فرمایا کرتے تھے ” جس شخص نے کتاب الہی سے نص واستدلال کے ذریعے علم احکام حاصل کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے حاصل کردہ علم کے مطابق قول و عمل کی توفیق دی تو وہ دین و دنیا میں بلند مرتبے پر فائز ہو گیا۔شک وشبہ کی دنیا سے باہر نکل آیا۔حکمت کے نور سے اس کا قلب منور ہو گیا اور دین میں مرتبہ امامت پر فائز ہو گیا۔213 امام شافعی کے ایک شاگرد کا بیان ہے شافعی جب قرآن کی تفسیر بیان کرنے لگتے تو ایسا معلوم ہوتا جیسے قرآن کریم کا نزول انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔علم حدیث میں بھی وہ یکتا تھے۔موطا امام مالک انہیں حفظ تھی۔انہوں نے ہی سنت کے قواعد منضبط کیے۔اس کے اسرار ورموز سمجھے اور ان سے استشہاد کیا۔وہ فرمایا کرتے تھے جس نے قرآن کا علم حاصل کیا اس نے اپنی قیمت بڑھائی۔۲۰ امام شافعی اور علم حدیث تابعین کے دور میں علم حدیث میں عجیب بگاڑ پیدا ہو چکا تھا۔موضوع احادیث اور مسائل