مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 62 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 62

62 بنالیے گئے تھے اور یہ طوفان بدتمیزی ایسی شدت اختیار کر گیا کہ بڑے بڑے فقیہ اور ا کا برائمہ بھی اس غلطی میں مبتلا ہو گئے۔مثلاً اس طرح کے مسائل اخذ کیے جارہے تھے کہ قہقہہ سے وضو کا ٹوٹ جانا، کھجور کے شیرہ سے وضو جائز ہونا، دارالحرب میں سود مباح ہونا، اگر حبشی چاہ زمزم میں گر جائے تو کنواں ناپاک ہونا اور اس کا سارا پانی نکالنے کا فتویٰ جاری کرنا اور یہ فتویٰ ابن زبیر اور ابن عباس جیسے افراد کی طرف منسوب تھے۔اسی طرح کی اور کئی باتیں وجود میں آچکی تھیں۔اہل الرائے کا گروہ پیدا ہو چکا تھا۔یہ لوگ وہی بات اختیار کرتے جس کی طرف ان کی طبیعت کا میلان ہوتا یا جس سے امراء وسلاطین کی خوشنودی مقصود ہوتی۔یہ لوگ فقیہ کہلاتے تھے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور اہلحدیث ان کے سامنے بالکل بے بس تھے۔ایسے حالات میں امام شافعی جو منصب تجدید پر فائز تھے اُٹھے۔انہوں نے گہری اور خداداد فراست سے حدیث پر کام کیا۔چنانچہ انہوں نے قلیل واسطوں سے ہر شہر کے مشہور محدثین اور اماموں سے جن کی عظمت و جلالت پر اتفاق تھا احادیث صحیحہ جمع کیں۔مختلف فقہاء ومحدثین کے اصول سے عوام کو آگاہ کیا۔حدیثوں کی تدوین میں انہوں نے سکے، مدینے کوفے ، بصرے وغیرہ کے سفر اختیار کیے اور بلاد اسلامیہ کا کوئی محدث ایسا نہ رہا جس کے سامنے انہوں نے زانوئے تلمذ طے نہ کیا ہو۔امام ضیاء الدین نے امام شافعی کے حدیث کے شیوخ کی تعداد انہیں بتائی ہے۔موضوع حدیثوں کا سیلاب جس شدت سے دین میں چلا آرہا تھا اس سے دین دار لوگ گھبرا اُٹھے اور بہت سے خادمان دین کی توجہ اس کے روکنے کی طرف لگ گئی۔مگر حدیث کی روایت اور اس سے مسائل اخذ کرنے کے فن کو جو سراسر ایک منقولی فن تھا علوم حکمیہ کے پایہ تک پہنچادینا محمد بن ادریس الشافعی کا ہی کام تھا۔اب تک اس فن کی کوئی اصطلاحات قائم نہ ہوئی تھیں اور یہ فخر امام شافعی کیلئے ہی مقدر تھا کہ وہ قرآن وحدیث کے احکام اخذ کرنے کے فن کو ایک مہتم بالشان فن بنا ئیں اور پھر اس پر حیرت انگیز اسلامی عمارات تعمیر کی جائیں۔11 حدیث رسول کی آپ کی نظر میں بہت اہمیت تھی۔آپ فرمایا کرتے تھے جس نے کتب حدیث کا مطالعہ کر لیا اس کی حجت قوی ہوگئی۔ہے آپ فرمایا کرتے تھے ان اصح الحدیث فھو مذھبی اور اگر صحیح حدیث مل جاتی تو اپنا