مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 60
60 نہ پاسکے گا“۔امام شافعی نے جوانی میں ہی معانی قرآن پر ایک کتاب لکھ ڈالی۔فنون و اخبار جمع کر دیئے اور حجت اجماع پر سیر حاصل بحث کی۔قرآن وسنت کے نسخ پر روشنی ڈالی۔199ھ میں شافعی مصر آئے۔یہاں آپ نے عرف دیکھا ، حضارت دیکھی ، نئے نئے افکار کا مطالعہ کیا۔آپ کے خیالات میں بھی کمی بیشی آئی۔ہر چیز کو کسوٹی پر پرکھا اور بالآخر یہاں پر ہی فوت ہوئے۔انہیں طویل زندگی نہ ملی۔چون سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے۔اس مختصر زندگی میں انہوں نے تقریر وتحریر سے عربی زبان کا دامن جواہر ریزوں سے بھر دیا۔مجلس علم وفکر میں اپنی دھاک بٹھا دی اور بہت جلد مرجع عوام بن گئے۔آپ کی مخالفت بھی ہوئی لیکن تائید ہو یا مخالفت ،خوشنودی ہو یا بیزاری کسی حالت میں بھی اپنے مسلک کی تبلیغ سے باز نہیں آئے۔آپ کی خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا۔چنانچہ کر ایسی کہتے ہیں ” ہمیں نہیں معلوم تھا کہ کتاب کیا ہے، نہ سنت اور اجماع سے ہم واقف تھے۔یہاں تک کہ شافعی کو ہم نے کہتے ہوئے سنا یہ کتاب ہے، یہ سنت ہے اور یہ اجماع ہے۔۵۔تجدیدی کارنامے جیسا کہ گزشتہ سطور میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس صدی میں قرآن ، سنت، حدیث ، فقہ، قیاس، استحسان وغیرہ کے متعلق عجیب و غریب نظریات موجود تھے۔اس لیے ایک مجدد کا فرض یہ تھا کہ ان تمام امور کے بارے میں صائب رائے پیش کرتا جس کو قرآن کی تائید حاصل ہوتی تا اس کا خدا کی طرف سے ہونا پایہ ثبوت کو پہنچتا اور خشک علم والوں پر اس کی برتری ثابت ہوتی۔امام صاحب نے بخوبی یہ معرکہ سرانجام دیا جس کا تذکرہ آئندہ صفحات میں کیا جارہا ہے۔علوم دینیہ کی اشاعت ربیع بن سلیمان امام شافعی کے پروگرام کے متعلق لکھتے ہیں :- شافعی نماز فجر پڑھ کر اپنے حلقہ میں بیٹھ جاتے اور فوراہی طالبانِ علم قرآن حاضر ہو جاتے۔طلوع آفتاب کے وقت یہ لوگ اُٹھ جاتے۔پھر طالبان حدیث کا گروہ پہنچ جاتا۔یہ لوگ بھی حدیث