مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 59 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 59

اپنے اصحاب کو کہا کرتے تھے :۔59 ان تابعكم الشافعى فما عليكم من حجازى بعد 5 كلفة“۔اگر شافعی تمہاری بات مان لیں تو پھر کسی حجازی کی طرف سے تمہارے لیے کوئی دقت نہ ہوگی۔امام صاحب نے قریباً بیس برس کی عمر میں مسجد الحرام میں فتویٰ دینا شروع کر دیا تھا۔طریق اجتہاد امام شافعی استنباط مسائل میں سب سے اول قرآن مجید پر نظر ڈالتے۔اگر قرآن مجید سے انہیں کوئی مسئلہ مل جاتا تو کسی حدیث یا قیاس کی طرف التفات نہ کرتے۔اگر کوئی مسئلہ قرآن میں نہ پاتے تو پھر حدیث اور قیاس کی طرف رجوع کرتے۔ان کا طریق استنباط دوسرے مجہتدین سے بالکل انوکھا تھا۔وہ کسی مسئلہ کے اخذ کرنے میں صرف قرآن کی ایک آیت پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔بلکہ ایک آیت کی تفسیر میں دوسری آیات، ترتیب خاص اور دیگر قرائن داخلی و خارجی کو بھی ملحوظ رکھتے تھے۔حدیث میں راویوں کی کثرت ، فقاہت اور حفظ وغیرہ کے لحاظ سے ایک حدیث کو دوسری پر ترجیح دیتے۔ناسخ و منسوخ کو نہایت دقیق نظر سے دیکھتے۔غرضیکہ تا امکان بشری وہ ہر پہلو پر نظر ڈالتے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے مسائل اکثر قرآن اور عقل کے مطابق ہیں۔۱۔شافعی مسلک 184 ھ تک آپ مالکی مسلک پر ہی قائم تھے اور ان کا نام ہی ”ناصر الحدیث“ پڑ گیا تھا۔پھر جب آپ بغداد گئے تو حنفی مسلک کی چند کتب پڑھیں۔آپ کو مالکی فقہ میں چند سقم نظر آگئے اور آپ نے غیر جانبدار نقاد کی حیثیت سے مالکی مسلک پر غور کیا جس سے آپ میں ایک فکر جدید کا آغاز ہوا۔بغداد سے نکل کر آپ مکہ آگئے اور مسجد الحرام میں حلقہ قائم کر لیا۔یوں مذہب شافعی وجود میں آیا۔مکہ کے درس کے دوران آپ نے فروعات کو چھوڑ کر کلیات کو اہمیت دی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ امام احمد بن حنبل امام شافعی کے حلقہ میں آکر بیٹھ گئے۔جب امام احمد کو اس پر کسی نے ملامت کی تو آپ نے جواب دیا ” خاموش۔اگر کوئی حدیث تجھ تک نہ پہنچ سکی تو اس سے تجھے اتنا زیادہ نقصان نہیں پہنچے گا جتنا اس سے کہ تو اس نوجوان کی عقل فکر انگیز سے محروم رہ جائے۔تو اسے کھو دینے کے بعد قیامت تک