مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 58 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 58

58 صاحب ان میں سے تھے جن میں نہ خود پسندی تھی نہ برتری کا جذبہ۔بحث کے موقعہ پر انہیں کبھی غصہ نہ آتا تھا، نہ ان کی حدت لسانی کسی موقعہ پر دوسروں کی دل شکنی کا باعث بنتی۔طلب حق کے سلسلہ میں شافعی کے اخلاص کا یہ عالم تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ لوگ ان کے علم سے فیضیاب ہوں۔بلا سے یہ انتساب ان کی طرف نہ ہو، اس کی انہیں قطعاً کوئی پرواہ نہیں تھی۔وہ اکثر فرمایا کرتے تھے میں چاہتا ہوں کہ لوگ یہ علم حاصل کریں۔مجھے نہ مدح کی پرواہ ہے نہ کسی اور طرح کی آرزو۔امام شافعی کی ذات گونا گوں ملکات و محاسن کا مجموعہ تھی۔انہوں نے اپنے علم بیکراں سے خود بھی فائدہ اٹھایا اور معاصرین کو بھی اخذ و استفادہ کا موقع دیا اور ملت اسلامیہ کا دامن بھی گراں بہاذ خائر علمی سے بھر دیا۔امام صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ باھمہ فضل و کمال زندگی کے آخری سانس تک وہ طالبعلم ہی رہے۔علم کے ساتھ جو رشتہ تھا مرور ایام کے ساتھ ساتھ اس میں استحکام پیدا ہوتا تھا۔امام صاحب کی ذات گرامی ہر اس کیلئے جو علم کا جویا ہے ایک موعظہ حسنہ ہے۔امام صاحب زندگی بھر اس شمع کی مانند فروزاں رہے جو خود جل جاتی ہے مگر دوسروں کو اپنی روشنی سے منور کر جاتی ہے۔2 فضائل و مناقب آپ نے جس وقت اپنے فقہ کی بنیا د رکھی اس وقت حفیت و مالکیت کے عروج کا زمانہ تھا۔حتی که مامون ، امین ، رشید وغیرہ بادشاہوں کے دلوں تک ان کی رسائی تھی۔لیکن امام شافعی نے ایسی شہرت پائی کہ لوگوں کے خیالات بدلنے لگے اور فقہ شافعی ان کے دلوں میں گھر کرتا گیا اور مصر، شام، حجاز، بحرین، جنوبی عرب، ملائشیا، انڈونیشیا میں شافعیوں کو اقتدار حاصل ہو گیا۔”الازہر میں شافعی فقہ کا مطالعہ بڑے ذوق سے کیا جاتا ہے۔امام احمد بن حنبل امام شافعی کے متعلق فرماتے ہیں: ”فقہ کا قفل بے کلید لوگوں پر جس نے کھولا وہ شافعی ہی تو تھے۔اگر شافعی نہ ہوتے تو ہمارے کل قضایا اہل رائے کے ہاتھوں میں آگئے ہوتے۔اے امام ابو ثور کہتے ہیں :- اگر خدا امام شافعی کے ذریعے مجھ پر احسان نہ کرتا تو میں دنیا میں گمراہ ہو جاتا“۔امام محمد سے ان کے مناظرات ہوتے رہتے تھے اور امام محمد امام شافعی سے اتنے متاثر تھے کہ