دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 93 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 93

93 کا حضرت موسیٰ اور اس کی قوم کا مقابلہ کرنے سے گویا کل دنیا کا مقابلہ ہو گیا۔رسول اللہ کو جو جماعت ملی وہ ایسی پاکباز اور خدا پرست اور مخلص تھی کہ ان کی نظیر کسی دنیا کی صلى الله قوم اور کسی نبی کی جماعت میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔“ اہل بیت کی تو ہین کا التزام ( ملفوظات جلد ۲ ص ۶۰،۵۹) مفتی محمود صاحب محض عجلت میں وہی الزام دہرا رہے تھے جو کہ جماعت احمدیہ کے وفد پر سوالات کے دوران پیش کیے جاچکے تھے اور ان کے حوالے غلط ثابت ہو چکے تھے اور اُٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات دئیے جاچکے تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ایک غلطی کا ازالہ کا وہی حوالہ پیش کیا جو کہ ۷ راگست کی کارروائی کے دوران پیش کیا گیا تھا۔اور یہ حوالہ مفتی محمود صاحب نے اس طرح پڑھا: (۱) گستاخی اور جسارت کی انتہا ہے کہ لکھتے ہیں: ( کارروائی صفحہ ۳۹۰) حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔‘“ (ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ صفحہ ۱) مولوی حضرات کی طرف سے شائع ہونے والی اشاعت میں اور حکومت کی طرف سے شائع ہونے والی اشاعت میں بھی یہ عبارت قوسین میں درج کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تاثر دیا جار ہا تھا کہ یہ معین الفاظ پڑھے جا رہے تھے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔نہ تو یہ حوالہ پورا پڑھا جا رہا تھا اور نہ ہی معین الفاظ پڑھے جارہے تھے۔ایک غلطی کا ازالہ میں جہاں یہ کشف درج ہے ، وہاں ایک کشف کا ذکر کرتے ہوئے اصل الفاظ یہ ہیں پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے یعنی جناب پیغمبر خدا ع و حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت و