دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 92 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 92

92 ان میں سے کسی میں حضرت عمرؓ یا حضرت ابو ہریرۃ کے بارے میں نادان کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا تھا۔البتہ حضرت ابو بکر کے بلند مقام کی تعریف کی گئی ہے۔حقیقۃ الوحی کے مذکورہ صفحات پر صرف یہ درج ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کی درایت اچھی نہیں تھی۔مفتی محمود صاحب کو نامکمل حوالوں کے علاوہ حسب سابق جھوٹ پر بھی انحصار کرنا پڑ رہا تھا۔صحابہ کرام بالخصوص خلفاء راشدین کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک کیا بلند مقام تھا، اس کا اندازہ آپ کی تحریروں کے مطالعہ سے بخوبی ہو جاتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں: میں اس کا کھلے طور پر اظہار بھی کر چکا ہوں کہ ان سادات سے بغض و کینہ رکھنا برکات ظاہر کرنے والے خدا اللہ سے سب سے زیادہ قطع تعلقی کا باعث ہے اور جس نے بھی ان سے دشمنی کی تو ایسے شخص پر رحمت اور شفقت کی سب راہیں بند کر دی جاتی ہیں اور اس کے لیے علم و عرفان کے دروازے وا نہیں کیے جاتے اور اللہ انہیں دنیا کی لذات و شہوات میں چھوڑ دیتا ہے اور نفسانی خواہشات کے گڑھے میں گرا دیتا ہے اور اسے (اپنے آستانے سے دور رہنے والا اور محروم کر دیتا ہے۔ان کی نیکیاں عظیم اور درخشاں تھیں۔وہ یقیناً پاکباز تھے۔ان کے عیاب اور ان کی لغزشوں کی جستجو کرنے سے بڑھ کر کوئی عیب نہیں اور ان کے نقائص اور برائیوں کی تلاش سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں۔“ (سرا الخلافه مع اردوترجمه صفحه ۳۰،۲۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریروں میں اور ارشادات میں بار بار اس بات کا اظہار فرمایا ہے کہ دنیا کی تمام تاریخ میں اگر کوئی گروہ سب سے زیادہ پاک اور برگزیدہ گروہ کہلانے کا مستحق ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ کا گروہ ہے۔آپ فرماتے ہیں: صلى الله جس قدر پاک گروہ آنحضرت ﷺ کو ملا وہ کسی اور نبی کونصیب نہیں ہوا۔یوں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی کئی لاکھ آدمیوں کی قوم مل گئی ،مگر وہ ایسے مستقل مزاج یا ایسی پاکباز اور عالی ہمت قوم نہ تھی جیسی صحابہ کی تھی۔رضوان اللہ علیہم اجمعین۔قوم موسیٰ کا یہ حال تھا کہ رات کو مومن ہیں تو دن کو مرتد ہیں۔آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ