دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 91 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 91

91 کی آیات اور پاک کرتا ہے ان کو اور سکھاتا ہے ان کو کتاب اور حکمت اور یقیناً تھے وہ پہلے اس سے البتہ گمراہی ظاہر میں اور دوسرے لوگوں میں بھی جو ابھی نہیں ملے ان سے اور وہی ہے غالب حکمت والا۔“ (الجمعة : ۴۳) جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ ان آیات میں آخرین سے کیا مراد ہے؟ آنحضرت ﷺ نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا تو ان میں سے ایک شخص پالے گا۔(صحیح بخاری ، کتاب التفسير باب قوله و اخرين منهم لما يلحقوا بهم ) ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دور میں تو ایمان ثریا پر نہیں جاسکتا تھا۔ان حوالوں سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مبارک دور کے بعد ایک اور گروہ پیدا ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا مقام رکھتا ہو گا کہ انہیں صحابہ کے گروہ سے ملا ہوا قرار دیا گیا ہے۔مفتی محمود صاحب صرف جماعت احمدیہ کے عقائد پر اعتراض نہیں کر رہے تھے بلکہ آیات قرآنی پر اور احادیث نبویہ پر اعتراض کر رہے تھے اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ الزام لگایا کہ ضمیمہ براہین احمدیہ جلد پنجم حقیقۃ الوحی اور خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہ کو نادان صحابی قرار دیا۔( کارروائی ص ۱۹۵۴) حقیقت یہ ہے کہ وہ براہین احمدیہ جلد پنجم کے ضمیمہ کے صفحہ ۱۲۰ کا حوالہ دے رہے تھے۔اس صفحہ پر بلکہ پوری عبارت میں حضرت عمر اور حضرت ابو ہریرہ کا نام تک نہیں لکھا ہوا ہے بلکہ یہ ذکر ہے کہ امت پر حضرت ابو بکر کا یہ بڑا احسان ہے کہ آپ نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر یہ آیت پڑھی کہ حضرت محمد ﷺ ایک نبی ہیں اور تمام انبیاء گزشتہ ان سے پہلے فوت ہو چکے ہیں اور اس کے بعد تمام صحابہ کا اس بات پر اجماع ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ سے قبل تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں اور یہ لکھا ہے بعض نادان صحابہ جنہیں درایت سے کچھ حصہ نہ تھا وہ بھی اس عقیدہ سے بے خبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔اسی طرح حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۳ ۳۴ اور خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۴۹ جن کا حوالہ دیا گیا تھا صلى الله