دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 85 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 85

85 قرآن شریف ایسا معجزہ ہے کہ نہ وہ اوّل مثل ہوا اور نہ آخر کبھی ہو گا۔اس کے فیوض و برکات کا دور ہمیشہ جاری ہے۔" ( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۵۷) مفتی محمود صاحب اب بڑی حد تک وہی الزام دہرا رہے تھے جن کے تسلی بخش جوابات پہلے ہی دیئے جاچکے تھے۔لیکن ان کے پاس جو نکات حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بیان فرمائے تھے ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔وہ ان نکات کے ذکر تک سے بھی کترا رہے تھے۔مثلا اب انہوں نے پھر یہ الزام دہرایا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کی ہے اگر چہ اس کا جواب پہلے ہی دیا جا چکا تھا لیکن اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ الزام لگانے کی کوشش کی کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کی شان میں بھی گستاخی کی ہے اور اس لا یعنی دعوے کے حق میں کیا دلیل لائے۔انہوں نے کہا: پھر تمام انبیاء علیہم السلام پر اپنی فضیلت ظاہر کر کے بھی انہیں تسلی نہیں ہوئی بلکہ مرزا غلام احمد کی گستاخیوں نے سرکار دو عالم رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن عظمت پر بھی دست درازی کی کوشش کی ہے، لکھا ہے کہ خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں، اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“ ( اربعین نمبر ۴ صفحہ ۱۷ مطبوعہ ۱۹۰۰ء)‘ ( کارروائی ۱۹۵۳٬۱۹۵۲) ایک بار پھر مولوی مفتی محمود صاحب نامکمل عبارت پڑھ کر اور عبارت کا ایک حصہ پوشیدہ رکھ کر اپنے الزام میں جان پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے حالانکہ اربعین ۴ میں جہاں یہ مضمون شروع ہوتا ہے وہاں یہ واضح لکھا ہے: و تم سن چکے ہو کہ ہمارے نبی ﷺ کے دو نام ہیں (۱) ایک محمد ﷺ اور یہ نام