دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 86 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 86

86 توربیت میں لکھا گیا ہے۔۔۔(۲) دوسرا نام احمد ﷺ ہے اور یہ نام انجیل میں ہے جو ایک جمالی رنگ میں تعلیم الہی ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے و مبشرا برسول ياتي من بعدی اسمه احمد اور ہمارے نبی ہے جلال اور جمال ودنوں کے جامع تھے۔مکہ کی زندگی جمالی رنگ میں تھی اور مدینہ کی زندگی جلالی رنگ میں اور پھر یہ دونوں صفتیں امت کے لئے اس طرح پر تقسیم کی گئیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو جلالی رنگ کی زندگی عطا ہوئی اور جمالی رنگ کی زندگی کے لئے مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ کا مظہر ٹھرایا وو اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: (روحانی خزائن جلد اصفحه ۴۴۳) پہلے جلالی زندگی کا نمونہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے قابل تعریف دکھلایا۔“ اس کے کچھ بعد وہ عبارت آتی ہے جو کہ مفتی محمود صاحب پیش کر رہے تھے اور اس کا اگلا جملہ نہیں پڑھ رہے تھے کہ مبادا حقیقت ظاہر ہو جائے۔اگلا فقرہ یہ تھا اب اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنے کا وقت ہے۔“ تو یہ مضمون بیان ہو رہا تھا کہ پہلے صحابہ نے آنحضرت ﷺ کے اسم محمد ﷺ کی تجلی کا نمونہ بن کر دکھایا اور اب آخرین کا فرض ہے کہ آنحضرت عے کی غلامی میں آپ کے اسم احمد کی تجلی کا نمونہ بن کر دکھا ئیں۔اس عبارت میں کون سی گستاخی کی گئی ہے۔اس میں تو آنحضرت ﷺ کی فضیلت بیان ہو رہی ہے کہ اب ہمیشہ تک جو رستباز اٹھیں گے وہ آپ کی غلامی میں آپ کے مبارک ناموں کی تجلی ہوں گے۔حیرت ہے کہ مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنوا عالم کہلانے کے باوجود اس حقیقت سے بھی بے خبر تھے کہ امت مسلمہ کے برگزیدہ اولیاء کی یہ پیشگوئی تھی کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں آنحضرت ﷺ کے اسم احمد کی بجلی ظاہر ہوگی یا پھر وہ تجاہل عارفانہ کے مرتکب ہورہے تھے۔ہم ایک مثال درج کرتے ہیں۔حضرت مجددالف ثانی تحریر فرماتے ہیں: