دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 84
کہتا ہے: 84 آنچه من بشنوم از وحی خدا بخدا پاک دانمش ز خطا ہمچو قرآن منزه اش دانم از خطاها ، ہمیں است ایمانم (نزول مسیح صفحه ۹۹ طبع اول قادیان ۱۹۰۹ء) و یعنی خدا کی جو وحی میں سنتا ہوں خدا کی قسم میں اسے ہر غلطی سے پاک سمجھتا ہوں قرآن کی طرح اسے تمام غلطیوں سے پاک یقین کرتا ہوں، یہی میرا ایمان ہے۔“ مرزا غلام احمد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قرآن کی طرح میری وحی بھی حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے اور اس کی تائید میں انہوں نے ایک پورا قصیدہ اعجاز یہ تصنیف کیا ہے جو ان کی کتاب اعجاز احمدی میں شائع ہو گیا ہے۔( کارروائی صفحہ ۱۹۴۹) نوٹ : اصل مصرعہ یہ ہے: از خطا ہا ہمیں است ایمانم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ان اشعار میں کہیں اس دعوے کا شائبہ بھی نہیں پایا جاتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی وحی کو قرآن کریم کے برابر قرار دے رہے ہیں۔ان اشعار میں صرف یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ چونکہ یہ وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لیے غلطی سے پاک ہے۔اس میں کیا شک ہے جو وحی یا الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا وہ غلطی سے پاک ہوگا۔کیا ان مولوی حضرات کا یہ خیال تھا کہ ایک وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو اور اس میں غلطیاں بھی ہوں؟ اگر ایسا تھا تو یہ محض ایک بچگانہ خیال تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تمام علم کلام قرآن کریم کی فضیلت کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب یہ اعلان کر رہی ہیں کہ قرآن کریم تمام الہامی کتب سے افضل ہے اور بے مثل کلام ہے۔ہم سینکڑوں میں سے صرف چند مختصر حوالے پیش کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔” سب سے سیدھی راہ اور بڑا ذریعہ جوانوار یقین اور تواتر سے بھرا ہوا اور ہماری روحانی بھلائی اور ترقی علمی کے لئے کامل رہنما ہے قرآن کریم ہے۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸۱)